جمعرات, اپریل 16, 2026
اشتہار

جب ایک غیر ملکی کی شکایت پر ڈنمارک کے وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑا

اشتہار

حیرت انگیز

پاکستان میں حکم رانوں کی شاہ خرچیاں ہمیشہ موضوعِ بحث بنتی رہی ہے اور اب بھی پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا اعلان ہوا تو سوشل میڈیا پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ درست ہے کہ قومی خزانے سے اپنے عیش و آرام اور راحت کا سامان کرنا ہمارے سیاست داں خوب جانتے ہیں اور کڑے وقت میں بھی عوام پر سارا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ حکم راں پروٹوکول اور مراعات کے عادی ہوچکے ہیں اور شاہانہ طرزِ زندگی سے دست کش نہیں ہونا چاہتے۔

ہم یہاں‌ شاعر اور ادیب جمیل یوسف کے ڈنمار کے سفر نامے "جل پری کے دیس میں” سے چند پارے نقل کررہے ہیں جو وہاں کے حکم رانوں کی قومی خزانے کی حفاظت، عوام سے ان کے اخلاص اور دیانت داری کی مثال ہیں۔

جمیل یوسف ایک جگہ اپنے میزبان سے سوال کرتے ہیں، ڈنمارک جو دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ہے کیا واقعی اس کے وزراء جب دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں تو وہاں کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں نہیں ٹھہرتے؟”

آغا صاحب نے بتایا، "شاذ و نادر ہی کبھی ایسا ہوا ہو تو ہو، ہم نے تو کبھی کسی اخبار میں یہ نہیں پڑھا کہ ڈنمارک کا کوئی سرکاری وفد کسی ہوٹل میں ٹھہرا ہو۔ میزبان ممالک جن کی دعوت پر اس طرح کے دورے کئے جاتے ہیں ان کے قیام و طعام کا بندو بست کرتے ہیں۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ہماری ایک خاتون وزیر (RITT BJEREGAARD) پیرس میں سرکاری خرچ پر ایک اوسط درجے کے ہوٹل میں جا کر ٹھہریں۔ جب یہ خبر اخبار میں چھپی تو کالج کی ایک طالبہ نے ایڈیٹر کے نام اپنے مراسلے میں لکھا، حیرت ہے کہ میں پچاس ڈالر میں پیرس میں رات بسر کر سکتی ہوں مگر وزیرنی نے ایک ہزار ڈالر صرف کمرے کے کرائے پر لگا دیے!

اس مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے وزیر کی فضول خرچی پر اور سرکاری رقم بے دردی سے ضائع کرنے پر اداریہ لکھ مارا۔ بات اسمبلی میں جا پہنچی اور آخر یہاں تک بڑھی کہ اس خاتون کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔

اقبال اختر نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے بتایا، ڈنمارک کے وزیروں پر ہی کیا منحصر ہے، یہاں کی رائے عامہ تو ملکہ کا بھی بڑی سختی سے احتساب کرتی ہے۔ ابھی پچھلے سال کی بات ہے ہماری ملکہ بیرونی دورے پر گئی، وزیر اعظم اور اس کی کابینہ نے اس دورے کے اخراجات کے لئے ایک مقررہ رقم کی منظوری دی مگر دورے پر مقررہ اخراجات سے کچھ زیادہ رقم خرچ ہو گئی۔ یہ مسئلہ نہ صرف پارلیمنٹ میں اٹھا بلکہ اخبارات نے بھی ملکہ کی شاہ خرچی کو اپنا موضوع بنایا اور لکھا کہ اگر ملکہ نے قومی خزانے سے زائد رقم خرچ کی ہے تو وہ مالی بدعنوانی کی مرتکب ہوئی ہے اور اگر اپنے پاس سے کی ہے تو بھی ملک کے زرِ مبادلہ پر بے جا بوجھ ڈالا ہے۔ آخر جب ملکہ کے خاوند نے جو فرانس کا ایک موروثی رئیس ہے یہ وضاحت کی کہ جو رقم زائد خرچ ہوئی ہے وہ اس نے پیرس کے ایک بینک میں اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے مہیا کی تھی، تو یہ قضیہ ختم ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے متعلقہ بینک سے اس بارے میں باقاعدہ تصدیق کی اور عوام کی اطلاع کے لئے اخبار میں اس کی خبر دی۔

ہم لوگ جو ابھی تک ڈنمارک کے حسینوں کی دلفریبی پر ہی فریفتہ ہو رہے تھے وہاں کے حکم رانوں اور سیاست دانوں کی دیانت داری، ایمان داری اور حب الوطنی پر حیران رہ گئے۔ اس طرح کی مثالیں تو ہمارے اسلاف میں تھیں نہ کہ ان کی تاریخ میں۔ ملکہ نے اپنے مقرر کردہ حصے سے زیادہ خرچ کر دیا عوام نے باز پرس کی۔ ملکہ کے خاوند نے صفائی پیش کی اور اس طرح ملکہ عوام کی عدالت میں سرخرو ہوئی۔

میں یہی باتیں سوچ رہا تھا کہ اقبال اختر بول اٹھے۔ میں ایک اور واقعہ آپ کو سناتا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ یہ لوگ احساس ذمہ داری اور خود احتسابی سے کس حد تک کام لیتے ہیں۔ سری لنکا کا ایک تامل آیا اور اس نے یہاں سیاسی پناہ لی۔ سیاسی پناہ حاصل کرنے کے بعد اس نے وزیر اعظم کو درخواست دی کہ میرے والدین کو بھی یہاں بلایا جائے ورنہ ان کے قتل ہو جانے کا خطرہ ہے۔ وزیر اعظم نے متعلقہ محکموں سے رائے طلب کی اور ان کی سفارشات کی روشنی میں تامل پناہ گزین کی درخواست کو معرضِ التوا میں ڈال دیا۔ کچھ عرصے بعد سری لنکا سے خبر آئی کہ درخواست گزار کے والدین کو واقعی قتل کر دیا گیا ہے۔ اس پر اس تامل نے محتسبِ اعلیٰ کو ایک عرض داشت پیش کی کہ ڈنمارک کے وزیر اعظم کو درخواست دی تھی جس میں میں نے لکھا تھا کہ میرے ماں باپ کو سری لنکا میں جان کا خطرہ ہے، انہیں بھی سیاسی پناہ دی جائے اور فوری طور پر یہاں بلانے کی اجازت دی جائے مگر وزیر اعظم نے میری درخواست اور وارننگ کے باوجود میرے والدین کو سری لنکا سے یہاں بلانے کی اجازت نہیں دی جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جیسا کہ میں نے خدشہ ظاہر کیا تھا، وہ دونوں قتل کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح وزیر اعظم میرے والدین کے قتل کا ذمہ دار ہے۔ محتسب اعلیٰ نے جب وزیر اعظم سے جواب طلبی کی تو وزیر اعظم نے اس امر کا اعتراف کیا کہ اگر درخواست گزار کی منشاء کے مطابق اس کی درخواست پر فوری کارروائی کی جاتی تو اس کے والدین قتل ہونے سے بچ سکتے تھے۔ وزیر اعظم نے درخواست پر کارروائی کو معرضِ التوا میں ڈالنے کی ذمہ داری قبول کی اور اس غلطی کی پاداش میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس وزیر اعظم کا نام Poul Schlutter ہے۔ ہم یہ واقعہ من کردم بخود رہ گئے۔

میں نے عرض کیا "اقبال صاحب! ہمارے ہاں تو اگر کسی وزیر کی نالائقی اور ادائے فرض میں کوتاہی کی وجہ سے ہزاروں انسان لقمۂ اجل بن جائیں تو بھی وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا، اپنی کرسی سے چمٹا رہتا ہے جب تک اسے ٹھڈے مار مار کر اتارا نہ جائے اور یہاں ڈنمارک میں یہ حال ہے کہ ایک غیر ملکی کے والدین ایک غیر ملک میں قتل کر دیے جاتے ہیں اور یہاں کا وزیر اعظم اس قتل کا ذمہ دار اپنے آپ کو سمجھتا ہے۔ جیسے حضرت عمر نے کہا تھا کہ اگر دریائے نیل کے کنارے کوئی کتّا بھی بھوکا مر جائے تو اس کی ذمہ داری عمر پر ہو گی۔ مسلمان یہ ہیں یا ہم لوگ۔ اسلام کے اصولوں پر یہ چل رہے ہیں یا ہم؟

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں