site
stats
پاکستان

قطری شہزادہ شکار کے لیے آسکتا ہے مگر بیان دینے کے لیے نہیں، جسٹس وجیہہ الدین

qatari

کراچی: جسٹس وجیہہ الدین صدیقی نے کہا ہے کہ جس فریق کا کیس کمزور ہوتا ہے وہ عدالتوں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے، قطری شہزادہ شکار کے لیے تو آسکتا ہے مگر بیان دینے کے لیے نہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ماریہ میمن کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جسٹس وجیہہ الدین صدیقی نے کہا کہ پاناما کیس کی انکوائری بہتر اور اعتدال کے ساتھ کی گئی، بینچ نے کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے کوئی سخت الفاظ استعمال نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کا فیصلہ اکثریتی ججز کا ہوگا، قانون کے تحت 5 رکنی بینچ کی مدت میں توسیع نہیں ہوسکتی، جے آئی ٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔

جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا کہ قطری شہزادہ شکار کے لیے آسکتا ہے مگر بیان کے لیے نہیں آرہا، شہزادے خط کی تصدیق اور لین دین کے حوالے سے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے عدالت میں ضرور آنا چاہیے کیونکہ قطری شہزادے کے 2 خط منظر عام پر آئے اور انہوں نے خطوط کی تصدیق خود بھی کی۔

قبل ازیں حکومتی وزراء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے آئی ٹی پر سوالات اٹھائے اور خواجہ آصف نے کہا کہ اگر جے آئی ٹی قطری شہزادے سے تفتیش نہیں کرے گی تو ہم اُس رپورٹ کو کسی بھی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔

ویڈیو دیکھیں


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top