site
stats
عالمی خبریں

جسٹن ٹروڈو کی ’دیوالی مبارک‘ پر ہندو انتہا پسند آگ بگولہ

اوٹاوہ: کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ہر مذہب کے تہوار کی طرح ہندو تہوار دیوالی پر بھی دنیا بھر کے ہندوؤں کو دیوالی کی مبارکباد دی، تاہم تنگ نظر انتہا پسند ہندوؤں کو ان کی مبارکباد ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے ٹروڈو کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔

روشنیوں کا تہوار کہلائے جانے والے دیوالی کے موقع پر جسٹن ٹروڈو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سیاہ شیروانی میں ملبوس دیا روشن کرتے ہوئے اپنی تصویر ٹوئٹ کی، اور ساتھ ہی لکھا، ’دیوالی مبارک، آج رات ہم اسے دارالحکومت میں منائیں گے‘۔

جسٹن ٹروڈو نے اپنی طرف سے تو مذہبی ہم آہنگی اور امن و آشتی کا پیغام دیا تاہم تنگ نظر ہندو انتہا پسندوں کو یہ بھی ایک آنکھ نہ بھایا اور انہوں نے جسٹن ٹروڈو پر تنقید شروع کردی۔

دراصل انہوں نے جسٹن ٹروڈو کے لفظ ’مبارک‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مبارکباد دینی ہی تھی تو صحیح سے ہندی میں دیتے یعنی دیوالی کی بدھائی۔

ایک ٹوئٹر صارف نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’ مبارک عربی زبان کا لفظ ہے بھارتی زبان کا نہیں‘۔

ایک انتہا پسند نے نہایت غصے میں انہیں جواب دیا، ’مسٹر ٹروڈو آپ ہندوؤں کی توہین مت کریں۔ ہم اپنا مذہبی تہوار آپ کی عربی مبارکباد کے بغیر بھی منا سکتے ہیں‘۔

تاہم کچھ ٹوئٹر صارف نے اس موقع پر جسٹن ٹروڈو کی حمایت کی اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ایک شخص نے لکھا کہ مبارک کا مطلب کسی کو نیک تمنائیں دینا ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ کے پیچھے چھپے جذبات کا احترام کریں۔

اس موقع پر ایک کینڈین شہری نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا۔

اب تنگ ذہن ہندو انتہا پسندوں کو واقعی ٹروڈو کے مذہبی ہم آہنگی کے جذبات نظر آتے ہیں یا نہیں، لیکن وہ ان کے لفظ ’مبارک‘ سے فی الحال شدید برواختہ ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top