The news is by your side.

Advertisement

خواتین کیا پہنیں اور کیا نہیں ‘ حکومت کو اس میں دخل نہیں دینا چاہیے، جسٹن ٹروڈو

ٹورنٹو: کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ یہ بتانا حکومتوں کا کام نہیں کہ خواتین کیا پہنے اور کیا نہیں، ہماری حکومت قانون کے اثرات کا مطالعہ کر رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کیوبک میں نقاب کی پابندی کا قانون منظور ہونے پر درعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہ یہ بتانا حکومتوں کا کام نہیں کہ خواتین کیا پہنے اور کیا نہیں، میں ہمیشہ کینیڈین شہریوں کے حقوق اور آزادی کے لئے کھڑے رہوں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس بارے میں بہت سے ہفتوں اور مہینوں پہلے سے بات چیت ہو رہی ہے، وفاقی حکومت کے طور پر ہم اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور دیکھ رہے اس کا کیا اثر ہے۔

قانون کو چیلنج کرنے کے حوالے سے ٹروڈو کا بار بار صرف یہی کہنا تھا کہ اوٹاوا قانون کے اثرات پر مطالعہ کر رہی ہے۔

جسٹن ٹروڈو کا قانون سے متعلق کہنا تھا کہ بل میں ان مسلمان خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو نقاب کرتی ہے ۔

قانون جو 1 جولائی، 2018 تک لاگو ہوگا اور اس سے متاثر ہونے والوں میں اساتذہ، پولیس افسران، اسپتالوں اور ڈیلی کیئر کے افراد شامل ہوں گے۔


مزید پڑھیں :  کینیڈا کے صوبے کیوبک میں خواتین کے نقاب پہننے پرپابندی


یاد رہے چند روز قبل  کینیڈا کے صوبے کیوبک میں پبلک سروس فراہم کرتے ہوئے یا عوامی سہولت سے فائدہ اٹھانے والی خواتین پر نقاب پہننے پر پابندی عائد کردی گئی تھی، انون کے تحت بیوروکرٹس، پولیس اہلکاروں، اساتذہ، بس ڈرائیوروں، عوامی اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں سب کو کام کے دوران اپنا چہرہ دکھانا ہوگا۔

واضح رہےکہ فرانس،آسٹریا،بیلجیئم،ڈنمارک،روس،اسپین،سوئٹزرلینڈ اور ترکی میں پہلے ہی عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی ہے جبکہ نیدرلینڈز میں بھی نقاب پر پابندی کا قانون زیرغور ہے۔

خیال رہے کہ کچھ سالوں میں کینیڈا کے صوبے کیوبک میں اسلام فوبیا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ، رواں سال جنوری میں کیوبک مسجد میں فائرنگ سے 6 نمازی شہید ہوگئے تھے۔

جس کے بعد کیوبک مسجد پر حملہ میں فرانسیسی کینیڈین طالب ملوث نکلا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں