The news is by your side.

Advertisement

خواجہ سراعلیشہ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم گرفتار

پشاور/ لاہور: پولیس نے خواجہ سرا علیشہ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم فضل گجرکو گرفتار کرلیا۔ خوجہ سراؤں نے حکومت سے آئین پاکستان کے مطابق عام لوگوں کی طرح معاشرے میں مساوی حقوق دینے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پشاورپولیس نے فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے خواجہ سرا علیشہ کے قاتل کو حراست میں لے لیا۔

پولیس نے خفیہ اطلاع پر پشاور کے مضافاتی علاقے قاضی کلے میں چھاپہ مارا۔ جہاں سے قتل میں ملوث مرکزی ملزم فضل گجر پکڑا گیا۔ پولیس نے ملزم کوتفتیش کیلئے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا۔ پولیس دیگر ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔

خواجہ سراعلیشہ پرپیر کی رات مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی، علیشا کو آٹھ گولیاں لگی تھیں اور وہ دوران علاج اسپتال میں دم توڑ گیاتھا۔ علیشہ نے انتہائی زخمی حالت میں پولیس کو دیئے گئے بیان میں مرکزی ملزم فضل گجر کو نامزد کیا تھا۔

علیشا ہ کو سہولیات نہ ملنے پر لیڈی ریڈنگ اسسپتال انتظامیہ بھی کڑی تنقید کی زد میں ہے۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی ہدایت پر ہسپتال حکام نے تحقیقات کے لیے چار رکنی کمیٹی قائم کی ہے۔

کمیٹی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے واقعے کی جانچ پڑتال کرے گی جسکی رپورٹ پیر کو پیش کی جائے گی۔

علاوہ ازیں خوجہ سراؤں نے آئین پاکستان کے مطابق عام لوگوں کی طرح معاشرے میں مساوی حقوق دینے کا حکومت سے مطالبہ کردیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران خواجہ سراؤں کی رہنما نے مطالبہ کیا کہ پشاور میں ان کے ساتھی کا وحشیانہ قتل قابل مذمت ہے کیونکہ پاکستان میں خواجہ سراؤں کو دیگر شہریوں کی طرح کوئی حقوق نہیں دیئے جاتے جو انسانی حقوق اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں خوجہ سراؤں کے ساتھ ظلم اور تشدد کے واقعات عام ہوتے جارہے ہیں۔ خواجہ سراؤں نے مطالبہ کیا کہ پشاور میں قتل ہونے والے ان کے ساتھی خواجہ سرا علیشہ کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں