جمعرات, دسمبر 11, 2025
اشتہار

خواجہ احمد عباس ہانگ کانگ میں

اشتہار

حیرت انگیز

کسی بھی زبان کے قلم کار کی تصانیف میں اگر سفر نامہ شامل ہو تو قارئین کو ضرور پڑھنا چاہیے کہ جس طرح کوئی بڑا اہلِ علم اور ادیب اپنے سفر کی روداد بیان کرتا ہے، وہ نہایت دل چسپ ہونے کے ساتھ ساتھ مفید اور معلومات کا خزانہ ہوتی ہے۔

اپنے سفرنامے کو بڑا قلم کار اپنے تجربات و مشاہدات کے ساتھ اپنی علمیت اور مطالعہ کی آنچ دکھاتا ہے تو یہ حوالہ و سند بھی بن جاتے ہیں۔ یہ خواجہ احمد عباس جیسے نام ور اور باکمال ہندوستانی فکشن نگار، فلم ڈائریکٹر اور صحافی کے سفر نامہ "مسافر کی ڈائری” سے چند اقتباسات ہیں۔ ہم نے اس کتاب میں سے صرف چین اور ہانگ کانگ کے سفر کے تناظر میں‌ چند پارے نقل کیے ہیں، لیکن خواجہ صاحب نے پانچ مہینے کے دوران دنیا کے متعدد ممالک کی سیاحت کی تھی۔ یہ کتاب خواجہ صاحب کے مشاہدات اور تاثرات کے ساتھ متعدد ممالک کے حالات کا ایک جائزہ پیش کرتی ہے۔

خواجہ احمد عباس نے اس کے ابتدائیہ میں ایک دل چسپ واقعہ لکھا ہے جو کچھ یوں ہے: جاپان میں، میں ریل میں ناگا ساکی سے کوبے جا رہا تھا۔ میرے قریب ہی ایک انگریز تاجر بیٹھا ہوا تھا۔ جو کئی بار پہلے بھی جاپان آچکا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کھڑکی بند رکھے، مجھے اصرار تھا کہ کھڑکی کھلی رہے۔ جیت میری ہوئی۔ اس پر وہ کھڑکی سے سرک کر دور بیٹھ گیا۔ اور ایک بار بھی باہر نہ جھانکا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کئی بار جاپان آچکے ہو۔ کیا بتا سکتے ہو کہ ریل کی پٹڑی کے کنارے جو کھیت لگے ہیں، ان میں کیا بویا ہوا ہے۔ اس نے کہا: مجھے معلوم نہیں، اور نہ مجھے اس کی پروا ہے۔ بعض لوگ ریل اور دماغ دونوں کی کھڑکیاں بند کر کے سفر کرتے ہیں۔ اس سفر میں، میں نے اور کچھ کیا یا نہیں، کم از کم یہ دونوں کھڑکیاں کھلی رکھیں، ان کھڑکیوں میں، میں نے کیا دیکھا۔ وہ آپ کو یہ کتاب پڑھنے سے معلوم ہو جائے گا۔

یہ سفرنامہ 1940 میں‌ شایع ہوا اور یہ وہ وقت تھا جب چین اور جاپان کے درمیان سیاسی اور سفارتی محاذ پر کشیدگی تھی۔ خواجہ صاحب لکھتے ہیں:‌

بانگ کانگ جنوبی چین کا دروازہ ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان آپ سے آپ اس زبر دست ملک کی تاریخ اور موجودہ حالات پر غور کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یورپین اور امریکن تمام مشرقی قوموں کی طرح چینیوں کو بھی غیر مہذب سمجھتے ہیں۔ انگریزی ناولوں اور امریکن فلموں میں عام طور سے چینیوں کا کردار نہایت خراب دکھایا جاتا ہے، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آج سے ہزاروں برس پہلے جب یورپ کی آبادی کھال لپیٹے پھرتی تھی، چین تہذیب، تمدن، آرٹ اور ادب کا مرکز تھا۔ مغرب والوں کو اپنی سائنس کی ایجادوں پر بڑا فخر ہے، مگر دراصل انسانی زندگی کے لیے جتنی چیزیں چین میں ایجاد کی گئی ہیں وہ کسی اور ملک میں نہیں ہوئیں۔ ریشم، لکھنے کا کاغذ، سکّے سکوں کے بجائے کاغذ کے نوٹ، چائے، آتش بازی ان سب چیزوں کا استعمال مغرب نے چین سے سیکھا۔ بارود چین میں فقط تفریح کے لئے آتشبازی بنانے کے کام آتا تھا، یورپ والوں نے اس سے بندوق اور توپ اور بم جیسے خوفناک ہتھیار بنائے۔ چین کی تہذیب کا مقصد انسان کی سمجھ بوجھ کو ترقی دینا اور اس کی زندگی کی مشکلوں کو آسان کرنا تھا۔ اور مغربی تہذیب کا مقصد دوسروں کو دھوکہ دے کر ان پر ناجائز اثر ڈال کر، ڈرا کر، دھمکا کر، روپے کے زور سے، ہتھیاروں کے زور سے اپنی دولت اور اثر کو بڑھانا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ دس ہزار میل کے فاصلے پر برطانیہ نے ہانگ کانگ پر قبضہ کرنا ضروری سمجھا ہے۔ کولمبو، سنگاپور، ہانگ کانگ غرض جہاں بھی جاؤ وہاں برطانوی شہنشاہیت (سامراج) کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ ہانگ کانگ پر برطانوی قبضہ دو وجہ سے ضروری تھا۔ اوّل تو فوجی نقطۂ نگاہ سے کولمبو اور سنگاپور کی طرح یہ مقام بھی ہندوستان کی حفاظت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی چین پر قبضہ کرنے کے لئے ہانگ کانگ اتنا ہی ضروری تھا جتنا شنگھائی شمالی چین میں۔

چین میں جمہوریت قائم ہونے کے بعد برطانیہ کا سیاسی اور فوجی اثر اس علاقے میں کم ہو گیا ہو مگر کاروباری دلچسپی باقی ہے۔ ہانگ کانگ کے دروازے سے انگریزی کارخانوں کا مال چین میں داخل ہوتا ہے۔ ہمارے جہاز میں سے بھی لاکھوں کا مال بندرگاہ پر اتارا گیا۔

ہانگ کانگ پر بے شک برطانوی قبضہ ہے، جب جہاز سے اتر کر میں شہر کی سیر کو گیا تو ہر جگہ انگریزی دوکانیں، انگریزی بنک، انگریزی گرجا اور انگریزی سپاہی نظر آئے۔ چین کی قومی حکومت پر دباؤ ڈال کر انگریزوں نے اس بندرگاہ پر اپنا قبضہ قائم کر رکھا تھا۔ مگر اب جاپان کا خوفناک سایہ بڑھتا ہوا آرہا ہے۔ میں ہانگ کانگ کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر گیا۔ وہاں سے تمام شہر نظر آتا ہے۔ ہانگ کانگ کے دو حصے سمجھنے چاہئیں۔ شہر کا زیادہ تر حصہ تو ایک پر جزیرے پر آباد ہے۔ بمبئی کی طرح، اس جزیرے اور چین کی سرزمین کے درمیان فقط ایک میل چوڑا سمندر کا حصّہ ہے۔ اس لئے شہر کا ایک حصّہ دوسری طرف بھی آباد ہے، جس کو کاؤلون کہتے ہیں، یہاں سے ریل کی لائن جنوبی چین کے سب سے بڑے شہر کنیٹن کو جاتی ہے۔ جو تقریبا سوا سو میل کے فاصلے پر ہے۔ اس ریلوے لائن پر جاپانی ہوائی جہاز برابر گولے برساتے رہتے ہیں تاکہ چین کی حکومت ہتھیار اور دوسرا ضروری سامان ہانگ کانگ کے راستے سے نہ لا سکے۔ شنگھائی ختم ہونے کے بعد اب دوسرے ملکوں سے تجارتی تعلقات رکھنے کے لئے ہانگ کانگ ہی چین کا سب سے بڑا دروازہ ہے، مگر جاپانیوں کی پوری کوشش ہے کہ یہ راستہ بھی بند ہو جائے۔ میں وقت تک جاپانی، چینی شہروں پر بم اور گولے برساتے ہیں، انگریز اطمینان سے بیٹھے رہتے ہیں، مگران کو یہ نہیں معلوم کہ اگر جنوبی چین پر جاپانی قبضہ ہو گیا تو پھر ہانگ کانگ کی بھی خیر نہیں، کیونکہ ایک میان میں دو تلواریں اور ایک ملک میں دو سامراجی طاقتیں نہیں رہ سکتیں۔

جس دن ہم ہانگ کانگ پہنچے اس سے ایک دن پہلے تمام چین میں‌ موجودہ جنگ کی برسی منائی گئی تھی۔ سال بھر ہوئے اسی تاریخ کو جاپانی فوجوں نے شمالی چین پر قبضہ کیا تھا۔ چینی قوم پرستوں نے چین کے ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں جلسے کئے اور اس جنگ کی اہمیت لوگوں کو سجھائی۔ جاپان کے خوفناک ارادوں سے قوم کو آگاہ کیا۔ اور ہر چینی مرد اور عورت نے قسم کھائی کہ اس وقت تک اطمینان سے نہ بیٹھیں گے جب تک جاپانی فوج کو اپنے ملک سے بالکل نہ نکال دیں گے۔

ایک ہندوستانی تاجر سے معلوم ہوا کہ ہانگ کانگ میں بھی یہ برسی زور شور سے منائی گئی تھی، علاوہ جلسوں اور جلوس کے ہانگ کانگ والوں نے ہزاروں روپیہ قومی حکومت کے جنگی فنڈ کے لئے جمع کیا۔

ہانگ کانگ کے شاندار کاروباری علاقہ کو چھوڑ کر شہر کے اندر گلیوں کوچوں میں جا کر چینی آبادی کی مفلسی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مزدور پیشہ چینی تو پہلے بھی غریب تھے، مگر جب سے موجودہ جنگ شروع ہوئی ہے، اندرونِ ملک سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لئے ہانگ کانگ آگئے ہیں۔ ان سب کے رہنے، کھانے کا انتظام بھی ہانگ کانگ کے چینیوں نے کیا ہے۔ اس لئے ان کی اقتصادی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگئی ہے۔ سیکڑوں بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ چند روز پہلے کینٹن پر بڑی سخت بم باری ہوئی تھی۔ اس کی وجہ سے ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے۔ ان میں سے کافی تعداد نے اب ہانگ کانگ میں پناہ لی ہے۔

میں ایک ہندوستانی تاجر سے ملا جو دو دن پہلے کینٹن سے آیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کینٹن کی چینی آبادی کتنی بہادری سے جنگ کی مصیبتوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ ہر دوسرے تیسرے روز جاپانی ہوائی جہاز نہتے شہریوں پر ہم گراتے ہیں مگر پھر بھی شہر میں کسی قسم کی بھگدڑ یا بدانتظامی نہیں ہے۔ حملہ ختم ہوتے ہی لوگ زخمیوں کو ہسپتال لے جاتے ہیں، اور کاروبار پھر اسی طرح شروع ہو جاتا ہے گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں