site
stats
پاکستان

پارلیمانی کمیٹی سندھ اسمبلی اجلاس ، کے-الیکٹرک نمائندہ طلب، برہمی کا اظہار

کراچی : سندھ اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک پر اظہار برہمی جب کہ ٹیرف کے معاملے پرنمائندہ کے-الیکٹرک اور رکن اسمبلی خرم شیرزمان کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق کے-الیکٹرک سے متعلق سندھ اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سربراہ کمیٹی جاوید ناگوری کی صدارت میں ہوا جب کہ کے-الیکٹرک کی جانب سے نمائندے عامر ضیاء نے کمیٹی کے ارکان کے سوالوں کے جوابات دیئے۔

اس موقع پرسیکرٹری انرجی نے کہا کہ 17 جون تک نوری آبادپلانٹ سے بجلی کی فراہمی شروع ہوجائے گی جس کے بعد کراچی کے شہریوں کو کچھ ریلیف میئسرآسکے گا۔

نمائندہ کے-الیکٹرک کا کہنا تھا کہ پہلے اور دوسرے روزے کو ہونے والا شارٹ فال ٹرانسمیشن لائن کی خرابی سے تھا جسے دور کرلیا گیا ہے جب کہ کراچی میں معمول کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ صرف 24 گھنٹے کے دوران ساڑھے 7 گھنٹے کی ہے۔

جس کے جواب میں پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ جاوید ناگوری نے کہا کہ آپ سب اچھے کی بات کررہے ہیں لیکن عوام بہت پریشان ہیں یا پھر یہ بیان شاید آپ جنت میں رہ کردے رہے ہیں دوسری جانب بقایات جات کے نام پر پی ایم ٹی بند کردئیے جاتے ہیں اور میٹر گھوڑے کی رفتار سے دوڑ رہے ہوتے ہیں۔

کے-الیکٹرک کے چیف ڈسٹری بیوشن آفیسرعامر ضیا کا کہنا تھا بجلی کا شارٹ فال ساڑھے تین سو میگا واٹ ہے اور یہ کمی لوڈشیڈنگ کرکے پوری کی جاتی ہے اگر نوری آباد پاور پلانٹ سے بچلی ملے گی تو لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ اور کم ہو جائے گا۔

ٹیرف کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کے-الیکٹرک کے نمائندے نے جواب دیا کہ ٹیرف کےالیکٹرک نہیں بلکہ نیپرا مقررکرتی ہے جس کی ہمیں پابندی کرنی ہو تی ہے۔

اس موقع پر کمیٹی کے اراکین نے کے الیکٹک کے خلاف شکایتوں کے انبار لگا دیئے اجلاس میں شریک ایک رکن شاہینہ بلوچ کا کہنا تھا کہ اوور بلنگ نے عوام کو تنگ کیا ہوا ہے بجلی ہے نہیں اور بل زیادہ آتے ہیں ایسے میں کے-الیکٹرک بتائے کہ غریب عوام کہاں جائیں؟

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top