site
stats
پاکستان

اعلان کے باوجود صنعتی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ، صنعت کار پریشان

کراچی: کے الیکٹرک کے اعلان کے باوجود صنعتی علاقوں میں 8 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے،صنعتی سرگرمیاں متاثر ہونے برآمدی آرڈرز پورے نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، تاجروں نے مطالبہ کیا کہ صںعتی علاقوں سے لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے۔


ضرور پڑھیں: کے الیکٹرک کا صنعتی اور تجارتی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا اعلان


تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کے الیکٹرک کے نمائندوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ رمضان المبارک کے بقیہ دنوں میں صنعتی علاقوں، تجارتی مارکیٹوں اور بازاروں میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی۔

اعلان کے برعکس صںعتی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آئی، بدستور سات تا آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس سے صنعتی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک اپنے اعلان پر عمل درآمد کرتے اور صنعتی و تجارتی علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈںگ نہ کرے تاکہ معاشی سرگرمیاں بحال رہ سکیں۔

لوڈ شیڈنگ سے چالیس فیصد پیداواری نقصان ہورہا ہے، جاوید بلوانی

کراچی انڈسٹریل فورم کے چیف کوآرڈینٹر جاوید بلوانی نے کراچی کے انڈسٹرئیل زونز میں کے الیکٹرک کی طرف سے روزانہ 7 تا 8 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے تمام صنعتی زونز میں انڈسٹریز کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائے۔

انھوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر میں سب سے زیادہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور اب رہائشی علاقوں کے بعد صنعتی زونز میں بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ شروع کر دی گئی اور 40 فیصد پروڈکشن کا نقصان ہو رہاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سائٹ، کورنگی، فیڈرل ایریا، نارتھ کراچی، لانڈھی اور سائٹ سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا میں کے الیکٹرک غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کر رہی ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔

پورے پاکستان میں کراچی کے سوا کسی بھی صنعتی علاقے میں اتنی لوڈ شیڈنگ نہیں ہورہی، محمد اشعر

نارتھ کراچی ایسوسی ایشن کے رہنما محمد اشعر کا کہنا ہے کہ پورے پاکستان میں صنعتوں کی 7 تا 8گھنٹے کہیں بھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہے صرف کراچی میں ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹر ک کی انتظامیہ تھرمل پاور پلانٹ نہیں چلاتی، بجلی کے بحران کراچی میں کے الیکٹرک نے خود پید ا کر رکھا ہے اگر کے الیکٹر ک اپنے تمام پاور جنریشن یونٹس سے بجلی پیدا کرے تو کراچی شہر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو جائے۔

محمد اشعر نے مزید کہا کہ پورا سال کے الیکٹر ک انتظامیہ شہریوں کو بے وقوف بناتی ہے۔

کراچی کی صنعتوں سے بجلی کے بلوں کی سو فیصد ریکوری ہے، مسعود نقی

کورنگی انڈسٹریل ایریا ایسوسی ایشن کے صدر مسعود نقی نے بتایا کراچی کی صنعتوں سے بجلی کے بلوں کی 100 فیصد ادائیگی ہوتی ہے اور اس کے باوجود صنعتی زونز میں لوڈ شیڈنگ کرنا غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہے۔

مسعود نقی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت فوری طور پر کے الیکٹرک کے پاور جنریشن یونٹس کا جائزہ لے، بند یونٹس چلوائے اور تمام انڈسٹریل زونز کے ساتھ ساتھ کراچی کے تمام رہائشی علاقوں میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top