The news is by your side.

کے الیکٹرک کا عثمانیہ کالونی میں بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن

کراچی : کے الیکٹرک کی ڈسٹری بیوشن ٹیموں نے کراچی کے علاقے عثمانیہ کالونی میں بجلی کے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف آپریشن کیا، غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 12 کلوگرام تاریں تحویل میں لے لیں۔

یہ غیر قانونی تاریں کے الیکٹرک کے انفراسٹرکچر کے حفاظتی پروٹوکول کے برخلاف ہونے کے ساتھ بڑے پیمانے پر عوام کے لیے بھی خطرات کا باعث بنتی ہیں ۔

کے الیکٹرک اپنے نیٹ ورک پر غیر محفوظ طریقوں اور غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف آگاہی مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

بجلی کے غیر قانونی کنکشنز نہ صرف سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ شہریوں کی جان کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

کے الیکٹرک کا ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن انفراسٹرکچر کوالیفائیڈ پروفیشنلز کے ذریعے سخت ترین حفاظتی پروٹوکولز اور تمام رائٹ آف وے تقاضوں کے ساتھ نصب کیا جاتا ہے۔

شہر بھر میں کے الیکٹرک کی ڈسٹری بیوشن ٹیمیں انفراسٹرکچر کی حفاظت اور بجلی کی مستحکم اور محفوظ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل رہتی ہیں۔

کے الیکٹرک کا تعارف

کے الیکٹرک (کے ای) ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہے، جس کا قیام پاکستان بننے سے قبل 1913 میں عمل میں آیا اور سال 2005میں کمپنی کی نجکاری کی گئی۔

کے ای پاکستان کی واحد عمودی طور پر مربوط یوٹیلیٹی ہے جو کراچی اور اس کے ملحقہ علاقوں سمیت 6ہزار 500مربع کلومیٹر علاقے میں بجلی فراہم کرتی ہے۔

مزید پڑھیں : کےالیکٹرک کی بجلی چوروں کیخلاف کارروائی، 5ہزار کنکشنز ہٹا دیے

کمپنی کے 66.4 فیصد حصص کے ای ایس پاور کی ملکیت ہیں، یہ سرمایہ کاروں کا ایک کنسورشیم ہے، جس میں سعودی عرب کی الجومعہ پاور لمیٹڈ، کویت کا نیشنل انڈسٹریز گروپ (ہولڈنگ) اور انفرا اسٹرکچر اینڈ گروتھ کیپٹل فنڈ (آئی جی سی ایف) شامل ہیں۔ کے الیکٹرک میں حکومت پاکستان کے بھی 24.36 فیصد حصص ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں