site
stats
سندھ

کے الیکٹرک: نئے میٹر لگوانے کے خواہش مند خون کے آنسو رو گئے

کراچی: کے الیکٹرک نے شہریوں کو تنگ کرنے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کر لیے، جائز طریقے سے میٹر لگوانا ناممکن بنادیا،کے الیکٹرک کی اوور بلنگ اور کنڈاکنکشن سے غریب شہری خون کے آنسو رونے لگے۔

ذرائع کے مطابق کے الیکٹرک کنڈے خود لگواتی ہے اور غیر قانونی کنڈے لگانے کا الزام لگا کر عوام کو بھاری بل بھیجنا معمول بن گیا ہے۔

کے الیکٹر ک نے کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی میٹر لگوانے کو آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے برابر کر دیا ہے، صارف کے الیکٹرک کی جانب سے لگائے گے کنڈوں کے کنکش پر ہزاروں روپے کا بھتہ نما بل جمع کر ارہے ہیں۔

دو سو گز کے مکان کی ایک فیملی کو 20 سے 50 ہزار روپے ماہانہ بل کنڈے کنکشن کے نام پر بھیجا جارہا ہے۔

کے الیکٹر ک کے ایک صارف کا کہنا ہے کہ انہوں نے 10 سال پہلے کے الیکٹر ک کو اپنے گھر کا سروے کرایا اور نیو کنکشن فیس بھی بھر دی تاہم دس سال بعد بھی میٹر نہ لگ سکا۔اب انہیں دوبارہ درخواست دینے کا کہا جاتا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ کے الیکٹرک ڈنکے کی چوٹ پر صارفین کو ایوریج، بجلی چوری اور ڈیٹیکشن کے اضافی بل جاری کرتی ہے،کراچی کے شہری چور اور کے الیکٹرک خود چائنہ کٹنگ، کچی آبادیوں، تجاوزات اور بغیر لیز کے مکانات کو ’’کنڈا کنکشن“ فراہم کررہی ہے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ کے الیکٹر ک نے چند ہاؤسنگ سوسائیٹز سے ساز باز کرکے میٹر کا حصول اور بھی مشکل بنا دیا ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی کے شہریوں کو بھتہ خوری اور دیگر کرائم سے تو نجات دلا دی تاہم اسٹریٹ کرائم اور ہر ماہ کنڈے کے نا م پر فی صارف ہزاورں روپے لوٹنے والوں سے کون نجات دلائے گا۔

اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک کراچی میں آفیشل بک کیے گئے کنکشن کی تعداد بتانے پر بھی راضی نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top