The news is by your side.

Advertisement

شہر میں لوڈشیڈنگ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ، شیڈول کےمطابق لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، کےالیکٹرک کا دعویٰ

کراچی : کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر میں لوڈشیڈنگ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ، شیڈول کےمطابق لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، بن قاسم اسٹیشن کے متاثرہ یونٹ سے پیداوارشروع ہوگئی ہے ، اضافی پیداوار سے   صورتحال میں بہتری آئے گی۔

تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک ترجمان کا کہنا ہے کہ لوڈشیئڈنگ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے، بن قاسم پلانٹ کی مرمت مکمل ہوگئی ہے، ہالینڈ سے منگوائے گئے پرزے کی تنصیب کے بعد اسے 48 سے 72 گھنٹے تک آزمائشی طور پر چلایا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ شیڈول کے مطابق لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، نقصانات والے علاقوں کو بھی بجلی ساڑھے 17 گھنٹے دی جارہی ہے۔

کے الیکٹریک کے مطابق متاثرہ یونٹ سے پیداوار  کا آغاز ہوگیا ہے ، اضافی پیداوار  صورتحال میں بہتری آئے گی، مستثنٰی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 3 سے کم کرکے ایک گھنٹہ ہوجائے گا جبکہ لائن لاسز والے علاقوں میں 3 سے ساڑھے 7گھنٹے کی شیڈول لوڈشیڈنگ ہوگی۔


مزید پڑھیں :  ہالینڈ سے منگوائے گئے پرزے کی تنصیب کرلی گئی، ترجمان کے الیکٹرک


واضح رہے کہ بن قاسم پاور پلانٹ کے یونٹ کی خرابی کے سبب کے الیکٹرک کو 600 سے 700 میگا واٹ شارٹ فال کا سامنا تھا‌۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے دعوؤں کے برعکس کراچی کے شہری گرمی کے ساتھ بدترین لوڈشیڈنگ عذاب میں مبتلا ہے، مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، مضافاتی علاقوں میں 14گھنٹے سے زائد کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔

جن علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے، ان میں قائدآباد، ملیر،سعودآباد، معین آباد ایکسٹینن ، شاہ فیصل کالونی،گلستان جوہر بلاک 14،بلدیہ ٹاؤن،اتحاد ٹاؤن ، حسرت موہانی سوسائٹی، نارتھ ناظم آباد بلاک ایل،سرسید ٹاؤن ، نیو کراچی،نارتھ کراچی،ناگن چورنگی مسلم ٹاؤن شامل ہیں جبکہ لیاقت آباد، محمود آباد سمیت دیگر علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

لوڈ شیڈنگ نے پانی کی قلت بھی پیدا کردی ہے، شدید گرمی میں روزےداربوند بوند کو ترس گئے ہیں۔

خیال رہے کہ  ڈی جی میٹ غلام رسول نے پیر، منگل اور بدھ کو ہیٹ ویوکی وارننگ دے دی ہے ، آج بھی شہر میں سمندری ہوائیں بند ہے اور درجہ حرارت 44 سے تجاوز کئے جانے کا امکان ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں