site
stats
اہم ترین

کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی چیئرمین نیپرا برس پڑے

اسلام آباد : چیئرمین نیپرا نے کہا ہے کہ  کے الیکٹرک اتنظامیہ نے بارشوں کی  وارننگ پہلے سے مل جانے کے باوجود بجلی کی  بحالی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئےگئے۔

تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک اور نیپرا کے درمیان ہونے والے اجلاس میں چیئرمین اور ممبرانِ نیپرا نے کے الیکٹرک انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو کراچی میں بارش کے بعد پیش آنے والی صورتحال پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی  پر برہمی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر چیئرمین  نیپرا  غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کراچی کے عوام چیخ رہے ہیں مگر کے الیکٹرک کو کسی قسم کی کوئی پرواہ نہیں ہے،شہر کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں لوڈ شیڈنگ نہ کی گئی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایسی کارکردگی کے باوجود آپ بجلی کے فی یونٹ 14 پیسے اضافے  کی سمری پیش کررہے ہیں، نیپرا کے حساب سے فی یونٹ 8 پیسے  کی کمی ہونی چاہیے تاہم نرخوں میں کمی کے حوالے سے کام مکمل کرکے تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا‘‘۔

نیپرا حکام نے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیتے کے الیکٹرک انتظامیہ پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ ’’ کراچی کے مختلف علاقوں میں تاحال بجلی بحال نہیں ہوسکی ، عوام گزشتہ 30 گھنٹوں سے شدید اذیت میں مبتلاء ہیں مگر بجلی کی بحالی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گیے۔

چیئرمین نیپرا طارق سدوزئی نے مزید کہا کہ  ’’کراچی کے عوام چیخ رہے ہیں مگرانتظامیہ کو کوئی اثر نہیں پڑا، بجلی کی بحالی میں اگر کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا ہے تو اُسے جلد از جلد دور کر کے شہر میں بجلی کی بحالی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے منگل کو ہونے والی بارش کے بعد 800 سے زائد فیڈر ٹرپ ہوئے جبکہ بدھ کے روز ہونے والی بارش میں 312 فیڈرز ٹرپ ہوگئے تھے، کے الیکٹرک انتظامیہ کی جانب سے شہر میں بجلی کے بحران کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ شہر میں صرف 200 فیڈرز ٹرپ ہونے سے شہر کے صرف چند علاقوں میں صارفین کو لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی بحالی کے دعویٰ مسلسل جاری ہیں جبکہ کراچی کے مختلف علاقوں میں 48 گھنٹے اور30 گھنٹے سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود بجلی بحال نہیں کی جاسکی۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top