کراچی : کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثے کی تحقیقات میں گہرے سمندر میں انجنز،بلیک باکس اور عملےکی تلاش کیلئےبیرون ملک ماہر کمپنیوں سے مدد پر غور کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کے ٹو ایئرویز کے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں گہرے سمندر میں طیارے کے انجن، بلیک باکس اور لاپتا عملے کی تلاش کے لیے غیر ملکی ماہر کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بیورو آف ایئرکرافٹ سیفٹی انویسٹی گیشن کی جانب سے حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، تحقیقاتی ٹیم نے اورماڑہ کے ساحلی علاقے میں فضائی جائزہ لیا اور اس بات کا بھی تفصیلی معائنہ کیا کہ شارجہ سے کراچی واپس آنے والا طیارہ کس طرح بلندی سے سمندر میں جا گرا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم نے کے ٹو ایئرویز کے طیارے سے متعلق دستیاب ریکارڈ کی جانچ پڑتال مکمل کر لی ہے، اس کے علاوہ سمندر سے ملنے والے طیارے کے ملبے اور عملے کے رکن انجینئر حامد کے بیگ سے برآمد ہونے والی اشیا کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گہرے سمندر میں طیارے کے انجن، بلیک باکس اور لاپتا عملے کی تلاش ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے پیش نظر جدید آلات سے لیس غیر ملکی ماہر کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
واضح رہے کہ کے ٹو ایئرویز کا کارگو طیارہ 7 جولائی کو شارجہ سے کراچی واپس آتے ہوئے اورماڑہ کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس کے بعد حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔


