کراچی : کے ٹو ایئرویز کے سی ای او راجہ طارق مجید تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے، ٹیم نے راجہ طارق سے تقریباً ایک گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔
تفصیلات کے مطابق کے ٹو ایئرویز کے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایئرلائن کے سی ای او راجہ طارق مجید متحدہ عرب امارات سے پاکستان پہنچ گئے اور تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے۔
ذرائع نے بتایا کہ بیورو آف ایئرکرافٹ سیفٹی انویسٹی گیشن کی ٹیم نے کے ٹو ایئرویز کے سی ای او سے تقریباً ایک گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور ایئرلائن و حادثے کا شکار ہونے والے طیارے سے متعلق مختلف سوالات کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ طارق مجید نے تحقیقاتی ٹیم کو حادثے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
سی ای او نے ٹیم کو بتایا کہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث انہیں یو اے ای سے پاکستان آنے میں وقت لگا۔
مزید پڑھیں : طیارہ حادثے کی تحقیقات: کے ٹو ایئرویز کے دفاتر بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن کے سپرد
خیال رہے کے ٹو ایئرویز کا طیارہ 7 جولائی کو شارجہ سے کراچی واپسی کے دوران اورماڑہ کے مقام پر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔
حادثے میں عملے کے پانچوں ارکان جاں بحق ہوئے، جبکہ طیارے کا بلیک باکس بھی تاحال نہیں مل سکا۔
حادثے کے بعد کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سول ایوی ایشن اتھارٹی ( سی اے اے ) نے کے ٹو ایئرویز کے 4 سیل شدہ دفاتر بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن کے سپرد کر دیے گئے تھے۔
ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا تھا کہ دفاتر انویسٹی گیشن ٹیم کے سپرد کرنے کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ ریکارڈ پر تحقیقاتی ٹیم کی براہِ راست دسترس کو یقینی بنانا ہے


