The news is by your side.

Advertisement

افغانستان میں‌ دو مساجد پر خودکش حملے، 72 شہید، درجنوں‌ زخمی

کابل: افغانستان کی دو مساجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملوں کے باعث کم از کم 72 افراد شہید اور 45 زخمی ہوگئے، داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان گزشتہ کئی روز سے مسلسل دھماکوں کی زد میں ہے، گزشتہ روز قندھار ملٹری بیس پر حملے کے بعد آج پہلا خودکش حملہ کابل کے مغرب میں واقع امام ضامن مسجد پر ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد شہید اور 45 زخمی ہوگئے۔

افغان وزیر داخلہ میجر جنرل علی مست مومند نے بتایا کہ خودکش بمبار پیدل چلتا ہوا آیا اور اس نے مسجد میں داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

حملے کے فوری بعد لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، سیکیورٹی فورسز نے جائے حادثہ کو سیل کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

الجزیرہ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ پہلا حملہ اہل تشیع افراد کی مسجد پر ہوا جس میں جاں بحق تمام افراد کا تعلق ہزارہ شیعہ کمیونٹی سے تھا۔

واقعے کی تصاویر اور فوٹیجز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔

بی بی سی کے مطابق ایک عینی شاہد نے انہیں بتایا کہ جمعے کی نماز کے وقت ہونے والے حملے میں حملہ آور مسجد میں داخل ہوا پہلے اسے نے فائرنگ کی پھر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

دوسرا حملہ

اس حملے کے کچھ دیر بعد دوسرا حملہ غور شہر کی ایک مسجد پر ہوا جس میں 42 افراد شہید ہوئے تاہم اس بار حملہ اہل سنت افراد کی مسجد کو بنایا گیا

صوبائی پولیس کے ترجمان محمد اقبال نظامی نے بتایا کہ حملہ نماز جمعہ کے دوران ہوا جس کے باعث 33 افراد جاں بحق ہوگئے حملے میں ایک سابق مقامی کمانڈر کو عبدالاحد کو نشانہ بنایا گیا جن کا تعلق جمیعت پارٹی لیڈر سے ہے اور وہ حکومت کی حمایت میں تھے۔

اطلاعات ہیں کہ عبدالاحد کے سات سیکیورٹی گارڈز بھی ان کے ساتھ جاں بحق ہوگئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں