یہ مختصر آپ بیتی ہے جسے شوکت کیفی کے قلم نے تہ داری اور معنویت بخشی ہے۔ وہ اردو کے ممتاز ترقی پسند شاعر کیفی اعظمی کی شریکِ حیات تھیں۔
بولی وڈ کی مشہور آرٹسٹ شبانہ اعظمی انہی کی بیٹی ہیں۔ شوکت کیفی کے والد ایک پڑھے لکھے، باشعور اور روشن خیال انسان تھے اور بعد میں شوکت کیفی کو ترقی پسند شاعر اور رائٹر کیفی اعظمی کا ساتھ نصیب ہوا تو کیسے ممکن تھا کہ وہ ترقی پسندانہ نقطۂ نظر کے ساتھ درد مندی کے احساس سے محروم رہتیں۔ وہ خود بھی تھیٹر اور فلم سے وابستہ رہیں اور روشن خیال عورت تھیں۔ شوکت کیفی نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار اور تجربات اس کتاب میں نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے۔
حیدرآباد دکن شوکت کیفی کا وطن تھا۔ انھوں نے اپنے وقت کی اس مرفہ الحال ریاست کی تہذیب و ثقافت کو کھوجا اور بعد میں اپنی یادوں اور خیالات کو کتابی شکل دی تو اس شہرِ کمال کی اردو پرستی، شعر و شاعری، اس کے ملبوس، آرائش، رنگا رنگ کھانے، رسم و رواج سب کچھ بیان کر دیا۔ آگے چل کر اعلیٰ حضرت (دکن کے فرماں روا) اور ان کے دربار سے جڑے نوابین کی عیش و عشرت، غریب رعایا پر ظلم و ستم اور کئی سفاکیوں کی روداد بھی پڑھنے کو ملتی ہے۔ اس کتاب کو انھوں نے یاد کی رہ گزر کا نام دیا جس سے یہ پارے قارئین کی دل چسپی کے لیے پیش ہیں۔
میں نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں وہ نیم ترقی پسند تھا یعنی میرے ابّا تو لڑکیوں کی تعلیم کے انتہائی حق میں تھے لیکن میرے دادا اور چچا انتہائی خلاف۔ میرے ابّا نے 1938 میں اپنی دونوں بڑی بیٹیوں، یعنی میری بڑی بہن لیاقت خانم ( عمر سترہ سال ) اور منجھلی بہن ریاست خانم (عمر سولہ سال ) کو خاندان کی مرضی کے خلاف مشن اسکول میں شریک کروا دیا تھا۔ اسکول میں مخلوط تعلیم تھی یعنی لڑکیوں کے ساتھ لڑکے بھی پڑھتے تھے۔ رہا پردے کا سوال تو انھوں نے آج سے 95 سال پہلے ہی اپنی بیوی کا برقع اُس وقت اتروادیا تھا جب وہ انھیں بیاہ کر سہارنپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں لوہاری سے حیدر آباد لا رہے تھے۔ دہلی کے اسٹیشن پر ان کا برقعہ اتار کر اٹیچی میں بند کروا دیا تھا۔
میرے دادا کٹر قسم کے مولوی، عربی فارسی کے عالم تھے۔ جنھوں نے قرآن شریف کا ترجمہ اردو میں کیا تھا۔ ابّا جان کو عربی فارسی کی تعلیم تو مکمل کروا دی تھی لیکن انگریزی کے خلاف تھے۔ جب ابّا جان نے محسوس کیا کہ انگریزی کے بغیر توکری نہیں مل سکتی تو انھوں نے چھپ کر انگریزی پڑھنی شروع کی اور میٹرک پاس کر لیا۔ ان کی انگریزی اتنی اچھی تھی کہ وہ بی اے کے بچوں کو پڑھا سکتے تھے۔
جب انھیں محکمہ ایکسائز میں انسپکٹر کی نوکری مل گئی تو انھوں نے تیلگو پڑھنا شروع کر دیا کیونکہ حیدر آباد میں نوکری کے لیے تیلگو جاننا ضروری تھا۔ تیلگو وہ بہت اچھی طرح پڑھ سکتے تھے اور بول سکتے تھے۔ بچوں کو پڑھانا ان کی hobby تھی۔
ابّا روزے نماز کے سخت پابند تھے۔ میری ماں بھی پانچ وقت کی نماز پڑھتی تھیں۔ میری منجھلی بہن ریاست خانم نے جنھیں ہم چھوٹی آپا کہتے تھے، سات سال کی عمر میں قرآن شریف ختم کر دیا تھا اور نو سال کی عمر میں حفظ۔ میں بھی نماز پڑھتی تھی لیکن قرآن شریف کا صرف اردو ترجمہ پڑھا کرتی تھی۔ مجھے تجسس تھا کہ آخر قرآن شریف میں ایسا کیا لکھا ہوا ہے کہ آدھی دنیا اسے مانتی ہے۔
ہمارے ابّا کی تنخواہ صرف تین سو روپے تھی۔ جس میں وہ اپنے دس بچوں کی پڑھائی اور کھانے پینے کا خرچ اٹھاتے تھے۔ میری ماں انتہائی نیک، پرہیزگار اور کفایت شعار بیوی تھیں۔ اپنے شوہر کی پسند پر سر جھکا کر چلنے والی خاتون لیکن انتہائی حساس اور خود دار بھی۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بڑے بھائی جان، خورشید علی خان، جو بی اے میں پڑھ رہے تھے، ایک مہینے کا غلّہ صرف چالیس روپے میں لا کر دیتے تھے، جس میں گھی اور لکڑی بھی ہوتی تھی (اس زمانے میں کھانا لکڑی کے چولھے پر پکتا تھا)۔ پکانے والی ماما کی تنخواہ آٹھ روپے تھی۔ بڑے بھائی جان جو عثمانیہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہتے تھے ان کا ماہانہ خرچ صرف اکیس روپے تھا۔ میری بہنوں کے ٹیوشن ماسٹر کا نام ملّپا تھا۔ ان کی فیس صرف پندرہ روپے تھی۔ وہ صبح پانچ بجے آیا کرتے تھے، اس لیے انھیں ناشتہ بھی دیا جاتا تھا۔ ہمارے گھر ناشتے میں اکثر صرف کھچڑی، چٹنی، دہی اور پاپڑ ہوتے تھے۔ کبھی کبھی قیمہ بھی بن جایا کرتا تھا۔ ہم لوگ اسکول شِکرم میں جاتے تھے۔ یہ ایک طرح کی دو بیلوں والی گاڑی ہوا کرتی تھی جس میں چاروں طرف چلمنیں اور دونوں سائڈ میں سیٹیں ہوتی تھیں۔ جن پر کم از کم آٹھ لڑکیاں بیٹھ سکتی تھیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب ہم منگل ہاٹ نام کے ایک محلّے سے گزرتے تھے تو ایک چائے خانے سے بیگم اختر کا وہ گانا ‘دیوانہ بناتا ہے تو دیوانہ بنا دے….’ ضرور سنائی دیتا تھا۔ گوشت کی دکان سے چار گنڈے پاؤ سیر لے جاؤ، چار گنڈے پاؤ سیر… کی آوازیں آتی تھیں۔ چار گنڈے سولہ پیسے کے ہوتے تھے۔ اُس وقت گوشت چونسٹھ پیسے کا ایک سیر ملتا تھا۔ ایک روپے میں چھیانوے پیسے ہوتے تھے۔ یہ میں 1941 کی بات کر رہی ہوں۔ جب میری عمر تیرہ سال کی تھی اور میں چھٹی جماعت میں پڑھتی تھی۔ حیدر آباد میں حالی پیسہ چلتا تھا۔ چھ پیسے کا ایک آنہ ہوتا تھا۔ ہندوستان کے دیگر حصوں میں کلدار سکّے کا رواج تھا جہاں چار پیسوں کا ایک آنہ ہوتا تھا۔
مجھے دوپٹے رنگنے اور چننے کا بے پناہ شوق تھا۔ میں بڑی آسانی سے اپنے کُرتے کے رنگوں اور ڈیزائنوں کو اپنے دوپٹے پر اتار لیا کرتی تھی۔ مجھ میں یہ قدرتی دین تھی کہ میں کوئی سا بھی رنگ بڑی آسانی سے دو تین رنگوں کو ملا کر بنا لیا کرتی تھی۔ میرا یہ شوق دیکھ کر میری ماں نے مجھے ایک تخت دے دیا تھا۔ رنگوں کا ڈبہ، برش، گوند گویا ہر وہ چیز جس کی مجھے رنگنے میں ضرورت محسوس ہوتی تھی منگوا دیا کرتی تھیں۔
حیدر آباد کے اس کلچر میں اس طرح کی بہت ہی خوبصورت، دل چسپ اور رومانٹک با تیں تھیں مثلاً لڑکیاں سَر دھو کر اگربڑیوں (مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں جو انتہائی خوشبودار ہوتی تھیں) کو انگاروں پر ڈال کر اس کا دھواں بالوں میں لیتی تھیں جس کی خوشبو ایک ہفتے تک سر میں بھی رہتی تھی۔ دھواں لینے کے لیے طرح طرح کی سوراخوں والی بانس کی ٹوکریاں بنائی جاتی تھیں جو شادیوں میں بھی دی جاتی تھیں۔
لڑکیاں رنگ برنگے کھڑے دوپٹوں میں بہت حسین لگتی تھیں۔ ان میں سے آتی ہوئی بھینی بھینی کیوڑے یا خس کی خوشبو انھیں دوسری دنیا کی مخلوق بنا دیتی تھی۔ ان میں سے میں بھی ایک ہوتی تھی۔ مجھے ان چیزوں سے زیادہ دل چسپی تھی۔ میرے کپڑے موگرے، موتیا کے پھولوں اور کیوڑے کے پتّوں میں بسے ہوتے تھے۔ سوچ سوچ کے اپنے دوپٹوں کو دوسری لڑکیوں کے دوپٹوں سے مختلف بنانا اور خوبصورت کپڑے پہننا میرا شوق تھا۔
ہمارے گھر ایک بڑھیا فقیرنی آتی تھی۔ اس کے بھیک مانگنے کا طریقہ آج تک مجھے یاد ہے۔ اس کے پاس ایک لکڑی کی گڑیا تھی جس کے ہاتھ ٹین کے نقشین ٹکڑوں کے تھے۔ وہ گڑیا کے کپڑوں کے نیچے ہاتھ ڈال کر اُن دونوں ہاتھوں کو بجاتی اور گانا گاتی۔ وہ گانا ایسا تھا۔
وہ پیسہ کیسا گیا گے ماں
وہ پیسہ نا جانا تھا
وہ پیسہ ہوتا تو ہیمرو منگاتی
میاں کو شیروانی ہوتی
بی بی کو چولی ہوتی
بچّے کو ٹوپی ہوتی
باندی کو تھیلی ہوتی
وہ پیسہ کیسا گیا گے ماں
وہ پیسہ ہوتا تو گوشت منگاتی
میاں کو بریانی ہوتی
بی بی کو قورمہ ہوتا
بچّے کو نلی ہوتی
کتّے کو ہڈی ہوتی
وہ پیسہ کیسا گیا گے ماں
وہ پیسہ نا جانا تھا
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


