ممبئی (20 فروری 2026): بالی وڈ کی معروف اداکارہ کاجول نے اپنی شخصیت بشمول اے آئی ڈیپ فیکس کے غلط استعمال کے خلاف قانونی تحفظ حاصل کر لیا۔
دہلی ہائیکورٹ نے کاجول کو عبوری تحفظ فراہم کر دیا جس کے تحت ان کی شخصیت کے حقوق کو ان کی شناخت کے غیر مجاز اور نقصان دہ استعمال بشمول اے آئی سے تیار کردہ مواد سے محفوظ رکھا گیا ہے۔
جسٹس جیوتی سنگھ کے بنچ نے ایک عبوری حکم امتناع جاری کیا جس میں کاجول کی رضامندی کے بغیر تجارتی مقاصد کیلیے ان کا نام، تصویر، آواز یا دیگر ذاتی خصوصیات استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔ اس میں تجارتی سامان، پوسٹرز یا وہ تشہیری مواد بھی شامل ہے جو منافع کیلیے بالی وڈ اداکارہ کی شناخت کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لوگ کہتے ہیں میں کاجول جیسی لگتی ہوں، نمرہ شاہد
عدالت نے انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے تمام فحش، نازیبا اور ہتک آمیز مواد کو بھی فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی جو اداکارہ کی شخصیت کا غلط استعمال کر رہا ہے۔
اس سلسلے میں ایک تفصیلی حکم نامہ جاری ہونے کا امکان ہے جس میں خاص طور پر ڈیپ فیکس اور اے آئی سے تیار کردہ دیگر مواد سے پیدا ہونے والے ابھرتے ہوئے خطرات کا احاطہ کیا جائے گا۔
عبوری تحفظ کی وضاحت کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیے کہ کاجول نے ڈیجیٹل غلط استعمال کے خلاف اپنی شخصیت اور تشہیر کے حقوق کے تحفظ کیلیے ایک مضبوط کیس پیش کیا۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اے آئی کے ذریعے ہونے والے غلط استعمال کو کنٹرول کرنے پر عدلیہ کی بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔
کاجول کا یہ کیس دہلی ہائیکورٹ کی جانب سے حالیہ مہینوں میں کیے گئے اسی طرح کے اقدامات کے تسلسل میں ہے جہاں کئی معروف شخصیات نے ڈیپ فیک ویڈیوز، کلون شدہ آڈیو اور آن لائن روپ دھارنے جیسے معاملات کو روکنے کیلیے قانونی چارہ جوئی کی۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ طنز و مزاح، تبصرہ نگاری اور خبروں کی رپورٹنگ جیسے جائز استعمال محفوظ رہیں گے لیکن جب کسی کی شناخت کو غیر مجاز تجارتی فائدے یا توہین آمیز مواد کیلیے استعمال کیا جائے گا تو اس کی واضح حدود موجود ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


