The news is by your side.

Advertisement

کالاش میں قیام امن کے لئے کانفرنس کا انعقاد

چترال:  کیلاش قبائل اور مسلمانوں کے درمیان صدیوں سےقائم مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے لیے امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیاجس میں کالاش کی تینوں وادیوں رمبور، بریر اور بمبوریت سے تعلق رکھنے والے عمائدین نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ چند دن قبل رینا نامی ایک کیلاش لڑکی اپنی مرضی سےمسلمان ہوئی جسے کیلاش اور مسلمان دونوں نے فراخ دلی سے تسلیم کیا لیکن ایک غیرملکی میڈیا رپورٹ میں اس واقعے کوغلط رنگ میں پیش
کیا جس سے دونوں فریقوں کے درمیان تعلق کشیدہ ہوئے تھے، تاہم اس لڑکی نے بعد میں پریس کانفرنس کے دوران برملا کہہ کر اعلان کیا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کی ہے۔

K1

امن کانفرنس کے دوران کیلاش قبیلے سے دس عمائدین اور مسلمانوں سے بھی دس افراد منتحب کئے گئے۔ بیس افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی سربراہی علاقے کے ناظم محمد رفیع ایڈوکیٹ کریں گے جبکہ اس امن کمیٹی کی وائس چئیرمین عمران کیلاش ہوں گے جو منتخب کونسلربھی ہے اورتھانہ بمبوریت کے ایس ایچ اواس کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے۔

ضلع ناظم نے اس امن کمیٹی کے اراکین پر زور دیا کہ وہ ہر ہفتے یا کم ازکم مہینے میں ایک بار ضرور اجلاس بلائے اور ان تمام امور پر غور اور بحث کرے جن سے اس پر امن علاقے کی امن کو حطرہ ہو تا کہ ان کی بروقت تدارک ہوسکے۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے اس کمیٹی کے چئیرمین کا کہنا ہے کہ اب دونوں فریق کے درمیان اسی طرح تعلقات ہوں گے جو صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔

K@

کیلاش قبیلے سے منتحب خاتون کونسلر نے بتایا کہ امن ہی سے علاقہ ترقی کرسکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سیاح یہاں آسکیں گے۔

ضلع ناظم مغفرت شاہ نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس کانفرنس کا بنیادیمقصد اس وادی میں امن کی فضاء کو برقرار رکھنا ہے اور دونوں فریق کےدرمیان جو غلط فہمیاں تھیں انہیں ختم کرنا ہے۔

K3

کانفرنس میں کثیر تعداد میں مسلمان اور کیلاش قبیلے کےعمائدین نے شرکت کی جو بعد میں دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیرہوئی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں