انسان کی دماغی ترقی کا ایک بڑا سبب تجسس کا مادّہ ہے، جو مختلف صورتوں میں کارفرما ہے، جو ہمیں نئی نئی چیزوں کی تلاش و جستجو پر آمادہ کرتا ہے، جو ہمیں ہر شے کی ماہیت اور اس کے اسباب پر سے پردہ اٹھانے پر مجبور کرتا ہے اور جو ہمیں دماغی کاہلی سے بچاتا اور کسی چیز کو بھی بغیر جانچ پڑتال کے قبول کرنے نہیں دیتا ہے۔
تخیل کی اہمیت مثلِ روزِ روشن ہے اور کہانیاں بچوں کے تخیل کی ترقی کا ایک مفید ذریعہ ہیں۔ کہانیوں میں ایسی دنیا کا ذکر ہوتا ہے جو بچہ کی جانی ہوئی چوبیس گھنٹوں کی دنیا سے بالکل مختلف ہے، ایسے لوگوں کے حالات زندگی ہوتے ہیں جن سے بچہ واقف نہیں۔ ایسی چیزوں کا بیان ہوتا ہے جو ان دیکھی، غیرمعمولی اور اکثر فوقِ فطرت ہوتی ہیں۔ الغرض، ان کہانیوں میں ایسی فضا، ایسی جزئیات ہوتی ہیں جن سے بچہ ذاتی واقفیت نہیں رکھتا اور نہ رکھ سکتا ہے، اس لئے بچہ اپنے تخیل سے کام لینے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس فضا، ان جزئیات کو وہ اپنے تخیل کی مدد سے محسوس کرتا اور سمجھتا ہے۔ اسی تخیل کی مدد سے وہ خود ان کہانیوں کا ہیرو بنتا ہے اور جہاں تک اس کے کچے، نوخیز، محدود تخیل سے ممکن ہوتا ہے، وہ اس خیالی دنیا میں سانس لینے کی کوشش کرتا ہے اور خیالی افراد کے خیالی تجربات سے بہرہ ور ہوتا ہے اور اس طرح اس کی دماغی زندگی زیادہ رنگین و پُرلطف ہو جاتی ہے۔
اس کے جذبات میں بھی ترقی ہوتی ہے اور خصوصاً ہمدردی و ترحم کے جذبات ابھرتے ہیں اور دوسروں کی خوشی سے خوش ہونا اور دوسروں کی تکلیف اور مصیبت پر آنسو بہانا سکھاتے ہیں۔ الغرض، یہ کہانیوں کا فیض ہے کہ بچہ اپنی بعض ان قوتوں کو ترقی دیتا ہے جو آدمی کو انسان بناتے ہیں اور جن کے بغیر اس کی زندگی ناتمام رہ جاتی۔
مہذب انسان بھی بچوں اور وحشیوں کی طرح قصہ کہانی کا شائق ہے۔ یعنی انسان تہذیب کے زینوں پر پہنچ کر بھی کہانیوں کو لغو و لاطائل نہیں خیال کرتا بلکہ ان کی نوعیت کو بدل کر اپنی مہذب زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ بہرکیف کسی بچہ اور وحشی میں یہ مشابہت ہے کہ دونوں کہانیوں کو پسند کرتے ہیں اور انھیں تعقل اور تنقید کی میزان پر نہیں تولتے۔
کسی بچے یا وحشی کا دماغ نسبتاً غیر ترقی یافتہ ہوتا ہے، خصوصاً تخیل کے مقابلہ میں تعقل کمزور ہوتا ہے، وہ نئی چیزوں میں دل چسپی تو لیتا ہے، وہ انوکھی باتوں کو شوق سے تو سنتا ہے لیکن انھیں غیرناقدانہ طور پر مان بھی لیتا ہے۔ کہانیوں کی صحت کو وہ بہ آسانی تسلیم کر لیتا ہے اور انھیں واقعیت کی روشنی میں نہیں دیکھتا اور نہ دیکھ سکتا ہے۔ گرد و پیش کے واقعات، جس دنیا میں وہ رہتا ہے وہ اسے حیرت انگیز شعبدوں سے بھری ہوئی نظر آتی ہے، اس لئے یہ ان دیکھی چیزیں، یہ عجیب وغریب قصے اسے بعید از عقل نہیں معلوم ہوتے۔
بہرکیف جیسے وہ کہانیوں کو واقعیت اور حقیقت کی روشنی میں نہیں دیکھتا، اسی طرح وہ انھیں جمالیات اور فن کی کسوٹی پر نہیں جانچتا، یعنی جس غیر ناقدانہ طور پر وہ ان کہانیوں کے موضوعات کو تسلیم کر لیتا ہے، اسی طرح وہ ان کی صورت میں حسن مناسبت، ترتیب و ارتقاء کی منطقی صحت سے سروکار نہیں رکھتا۔ اسی لئے ان کہانیوں میں حقیقت اور فنی حسن کا عموماً وجود نہیں ہوتا۔ جب بچے کا دماغ ترقی کے مدارج طے کرتا ہے، جب وحشی تہذیب کی منزلوں سے گزرتا ہے تو وہ ان کہانیوں میں ایک کمی محسوس کرتا ہے۔ ان سے اس کی نئی زندگی کی ضرورتیں اب پوری نہیں ہوتیں، وہ انھیں اب پہلے شوق سے نہیں سنتا اور اس کی ذہنی اور دماغ ترقی انھیں پس پشت ڈالنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ دوسری ادبی صنفیں اختراع و اخذ کرتا ہے جن سے اس کی نئی پیاس کی تشفی ہوتی ہے۔
میں نے ابھی کہا ہے کہ بچہ اور وحشی دونوں میں تخیل کی نشو ونما تعقل، تمیز کی نشو ونما سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ ان کے تخیل کی پرواز بلند اور تیز تو ہوتی ہے لیکن تعقل اور تمیز کے ماتحت نہیں ہوتی، اس لئے اس پرواز کے نتائج مہذب دماغ کو زیادہ وقیع نہیں معلوم ہوتے، جب وہ ان نتائج پر نظر ڈالتا ہے تو اسے مطلق تشفی نہیں ہوتی اور انھیں بعید از عقل، بیکار، مضحکہ خیز سمجھتا ہے، اسے ان میں ایک ایسی دنیا نظر آتی ہے جو اس دنیا سے جس میں وہ سانس لیتا ہے کوئی مماثلت نہیں رکھتی۔ وہ اس دنیا میں جانوروں کو چلتا پھرتا، بولتا چالتا، کھاتا پیتا دیکھتا ہے۔ وہ بھی انسان کی طرح محبت، نفرت، غصہ، رنج، ہنسی، خوشی غرض مختلف قسم کے جذبات محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اسے اس دنیا میں ناقابل یقین واقعات نظر آتے ہیں۔ کبھی وقت کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے تو کبھی یک قلم رک جاتی ہے۔ بچہ ایک آن میں جوان ہو جاتا ہے تو کبھی جوان ہمیشہ جوان نظر آتا ہے۔ برسوں کی راہ ایک لمحہ میں طے ہو جاتی ہے۔ غیرمتوقع طریقے پر بچھڑے ہوئے مل جاتے ہیں اوراسی غیرمتوقع طریقے پر پھر مل کر بچھڑ جاتے ہیں۔
بات یہ ہے کہ انسان کا شعور اس کی ترقی کے ابتدائی منازل میں تہذیب و تربیت سے نابلد تھا۔ وہ جس دنیا میں رہتا تھا، وہ اسے اجنبی اور اس کی دشمن نظر آتی تھی اور وہ ہر چیزوں کو اپنے احساسات و مشاہدات کی روشنی میں دیکھتا تھا، مثلاً وہ شکار کرتا تھا اور اسے معلوم تھا کہ موت اس کے ہاتھ کا کرشمہ ہے، اسی طرح اسے اپنے کسی دوست یا اپنی محبوبہ کی موت میں در پردہ کسی شکاری کا ہاتھ نظر آتا اور وہ اس شکاری دیوتا کو پوجتا اور اسے دعا اور نذر کی مدد سے تسخیر کرنا چاہتا۔ وہ جانوروں کو انسان کو طرح چلتا پھرتا دیکھتا، اس لئے وہ سمجھتا کہ جانور بھی اسی جیسی کوئی ہستی ہے اور وہ بھی انسانی خصوصیات سے بہرہ ور ہے۔ بچہ اسی طرح سوچتا ہے۔ وہ بھی سمجھتا ہے کہ جانور بھی تکلم، شعور جذبات کے حامل ہیں اس لئے جب اسے چڑیا چڑا یا بولتے چالتے، کھچڑی پکاتے نظر آتے تو اسے کوئی تعجب نہ ہوتا، اس دنیا میں اسے کتنی ایسی چیزیں نظر آتی ہیں جو اس کی سمجھ سے باہر ہیں اس لئے اسے کسی فوق فطرت واقعہ سے مطلق حیرت نہ ہوتی اور وہ اسے ناقابل وثوق نہیں خیال کرتا۔
قصے کہانیاں اپنے فنی اور ادبی نقائص و حدود کے باوجود بھی ایسی چیزیں نہیں کہ انہیں یک قلم ناقابل اعتنا سمجھا جائے۔ ابتدائی قدیم قصے جو عموماً کسی قوم میں متداول نظر آتے ہیں، وہ مختلف دلچسپیوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کی اس قوم کے شعور و تخیل سے آبیاری ہوتی ہے۔ ان میں اس قوم کے تخیل کی ابتدائی نوخیز قوت پرواز کا عکس نظر آتا ہے۔ ان میں اس قوم کے شعور کی پہلی، معصوم تتلاہٹ سنائی دیتی ہے، اسی آئینہ میں بہت سی وہ چیزیں نظر آتی ہیں جن میں وہ قوم شروع میں دل چسپی لیتی تھی اور جو اس کی دماغی اور جذباتی قوتوں پر پُرزور محرکات کا کام کرتی تھیں۔ اسی آئینہ میں وہ سب باتیں نظر آتی ہیں، جن میں اسے یقین کامل تھا اور جنہیں وہ واقعیت اور حقیقت کا جامہ پہناتی تھی۔ اسی آئینہ میں وہ سب تصورات بھی ملتے ہیں جو محض تصورات نہ تھے بلکہ اس کے خیال میں ہونے والے واقعات سے زیادہ مضبوط اور پائدار تھے اور اسی آئینہ میں وہ مافوق العادات ہستیاں، واقعات، چیزیں، وہ وہم و گمان کے مرقعے، وہ مذہبی عقائد بھی اپنی جھلک دکھلاتے ہیں جنھیں وہ صحیح سمجھتی تھی۔ الغرض ان کہانیوں سے کسی قوم کی ابتدائی مجموعی اور اس کے افراد کی انفرادی کاوشوں کی پہچان ممکن ہوتی ہے۔ بہرکیف یہ چیزیں ایسی ہیں جن کا ادب سے کوئی خاص تعلق نہیں۔
یہ مسلم ہے کہ کہانیوں میں ادبی حسن و قدر وقیمت کی نمایاں کمی ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انھیں ادبی معیار سے جانچنا غلطی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ان میں ایسے کردار ہوتے ہیں جو ناقابل وثوق ہوتے ہیں، ایسے واقعات کا ذکر ہوتا ہے، جنھیں فہم سلیم کبھی تسلیم نہیں کر سکتی اور ان واقعات کی ترتیب و تنظیم وترقی میں فنی اور منطقی نقائص بے شمار ہوتے ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے کہ دنیائے ادب میں انہیں کبھی وہ مرتبہ نہیں حاصل ہو سکتا ہے جو دوسری ادبی صنفوں کو حاصل ہے، لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ کوئی بچہ ان ادبی نقائص کو محسوس نہیں کرتا اور وہ ان کہانیوں میں ادبی محاسن کو نہیں ڈھونڈھتا۔ وہ ادبی اور فنی اصول و محاسن سے واقف نہیں ہوتا۔ وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ جو واقعات ہوں وہ انوکھے اور دلچسپ ہوں اور کہانی میں مسلسل دلچسپ واقعات ہوں اور اس سلسلہ کی ہر کڑی دلکشی رکھتی ہو۔ اگر واقعات دلچسپ نہیں تو پھر کہانی میں اس کا دل نہیں لگتا اور اس میں اسے کوئی مزہ نہیں ملتا۔
جہاں دلچسپی کے تسلسل میں کمی ہوئی، جہاں کوئی کڑی بے لطف ہوئی تو اس کی طبیعت مکدر ہو جاتی ہے۔ وہ آگے پیچھے نہیں دیکھتا، اسے کہانی کے حسن صورت سے کوئی بحث نہیں ہوتی، وہ صرف فوری اور پیش نظر چیزوں میں منہمک ہو سکتا ہے، اس لئے وہ چاہتا ہے کہ ہر واقعہ دل چسپ ہو، سب کچھ ہو لیکن واقعات کی دلچسپی میں کمی نہ ہو۔ اس کی زبان پر برابر یہ کلمہ جاری رہتا ہے، ’’پھر کیا ہوا۔۔۔ پھر کیا ہوا۔۔۔‘‘ یہی ایک معیار ہے جس سے وہ واقف ہے۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس سے ہر کہانی کی وہ جانچ کرتا ہے۔ جو کہانی اس معیار پر پوری اترتی ہے اسے وہ اچھی، قابل قدر سمجھتا ہے اور جو کہانی اس معیار پر پوری نہیں اترتی، اسے وہ کم قیمت خیال کرتا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ یہی ایک معیار ہے جس سے کہانیوں کے حسن و قبح کی جانچ لازم ہے اور یہ معیار محض طفلانہ نہیں۔ ہر فنی کارنامے میں دلچسپی کا وجود ضروری ہے۔ دلچسپی کا فقدان ادب میں اہم ترین عیب شمار کیا جاتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اعلیٰ اصناف ادب میں ہم اس قسم کی دلچسپی نہیں ڈھونڈتے جیسی ایک بچہ کہانیوں میں تلاش کرتا ہے۔
انسان بچپن کی منزل سے گزرتا ہے لیکن گزر نہیں جاتا۔ وہ سن شعور کی اقلیم میں قدم رکھنے کے بعد بچپن کے احساسات، بچپن کی خواہشات سے مکمل قطع تعلق نہیں کرتا۔ بچپن اپنی رنگین و شاداب امیدوں، تمناؤں، امنگوں کے ساتھ اس کی فطرت میں پوشیدہ رہتا ہے اور موقع ملتے ہی پردہ سے باہر نکل آتا ہے اور وقتی طور پر وہ پھر اس گزری ہوئی دنیا میں جا بستا ہے جس سے بظاہر اب اسے کسی قسم کا لگاؤ نہیں۔ بچّہ کہانی کا دلدادہ ہوتا ہے اور بڑھ کر بھی وہ اس قسم کی چیز کا متلاشی ہوتا ہے اور داستانوں میں دل چسپی لیتا ہے۔ وہ دن بھر کے کام سے فارغ ہوکر دل بہلانے کا ذریعہ ڈھونڈتا ہے اور یہ ذریعہ داستان ہے۔
(کلیم الدین احمد، ادب کے ایک بڑے نقاد اور غزل کی مخالفت کے لئے مشہور رہے ہیں، جن کے مضمون ‘داستان کیا ہے؟’ سے یہ پارے نقل کیے گئے ہیں)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


