The news is by your side.

Advertisement

استعفیٰ دے رہا ہوں، فاروق ستار کو سربراہ تسلیم کریں، کامران ٹیسوری کی پیش کش

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان (پی آئی بی) گروپ کے ڈپٹی کنونیئر کامران ٹیسوری نے 24 گھنٹے کی پیش کش کی ہے کہ وہ اپنے عہدے استعفیٰ دے رہے ہیں بہادرآباد رابطہ کمیٹی کے اراکین فاروق ستار کو سربراہ تسلیم کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان (پی آئی بی) گروپ کے ڈپٹی کنونیئر کامران ٹیسوری نے گذشتہ روز اے آر وائی کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے پارٹی عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

ڈاکٹر فاروق ستار اور پی آئی بی سے وابستہ کارکنان کچھ دیر قبل ڈپٹی کنونیئر کی رہائش گاہ پہنچے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ کامران ٹیسوری کسی صورت اپنا عہدہ نہ چھوڑیں اور فاروق ستار کا ہر صورت ساتھ دیں۔

اس موقع پر کامران ٹیسوری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مینڈیٹ کی خاطر قربانی دیتے ہوئے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتا ہوں، اب بہادرآباد والے ساتھیوں کے پاس 24 گھنٹے کا وقت ہے کہ وہ فاروق ستار کو سربراہ تسلیم کریں۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ کیا وجہ تنازع عشرت العباد کو سرپرست اعلیٰ بنا کر لانا تھا؟ کیا شہاب اور جاوید حنیف پیچے سے پارٹی چلا رہے ہیں؟ کارکنان سے اپیل ہے چوبیس گھنٹے انتظار کرلیں۔ 24 گھنٹے میں بہادر آباد کی بلی تھیلے سے باہر آجائے گی، بہادر آباد کے ساتھی میرا نام لے کر کارکنان کو گمراہ نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی خود مستعفی ہوں، کنور نوید جمیل کو بھی ساری سازش کا علم ہے، عامر خان آگے آئیں اور قوم کو حقیقت سے آگاہ کریں، بہادر آباد گروپ کو دعوت دیتا ہوں آگے بڑھیں اور متحد ہوجائیں۔

مزید پڑھیں:  کامران ٹیسوری پارٹی تقسیم کا باعث ہے، خالد مقبول صدیقی

اُن کا کہنا تھا کہ اگر بظاہر مسئلہ میں تھا تو مینڈیٹ کی خاطر قربانی دے رہا ہوں، ہمارا حق چھیننے کی تیاری مکمل ہوچکی ہے جس کا ایک چھوٹا سا عملی نمونہ سینیٹ انتخابات کے موقع پر سامنے آیا۔

ڈپٹی کنونیئر کا کہنا تھا کہ بہادرآباد والے اپنی توانائیاں ضائع کررہے ہیں، اگر یہی صورتحال رہی تو ایم کیو ایم پاکستان 2018 کا مینڈیٹ نہیں لےپائے گی کیونکہ پارٹی (بہادرآباد) والے اپنا مینڈیٹ گروی رکھ چکے ہیں اور وہ کارکنان کو غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سابق کنونیئر اور سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کامران ٹیسوری سے ٹیلی فونک رابطہ کیااور اسعتفیٰ دینے سے متعلق مشاورت کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ وہ جلد بازی میں فیصلہ نہ کریں جبکہ کارکنان نے مطالبہ کیا کہ کامران ٹیسوری فاروق ستارکاساتھ نہ چھوڑیں۔

یہ بھی پڑھیں: فاروق ستارنے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کر دیا

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے دو گرہوں (پی آئی بی اور بہادرآباد) میں آپسی جھگڑے اس حد تک شدت اختیار کرچکے ہیں کہ فاروق ستار نے مخالف میں کھڑے لوگوں پر سنگین الزام بھی عائد کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ مائنس کا فارمولا ایک اسکرپٹ کے تحت جاری ہے جو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی راہیں کھولنے کے لیے سجایا جارہا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بہادرآباد والے ساتھی حقیقی پارٹ 2 بنارہے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بہادرآباد رابطہ کمیٹی کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیا اور فاروق ستار کو قانونی طور پر کونیئر کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات دیے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں