بدھ, جون 17, 2026
اشتہار

کامران ٹیسوری کا پیپلزپارٹی رہنماؤں کے بیان پر ردعمل

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ ہے کہ صوبے میں کسی بھی قومیت کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوگی تو میں اور یہ گورنر ہاؤس بھرپور آواز اٹھائے گا۔

سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی رہنماؤں کی جانب سے ان کیخلاف کی جانے والی گفتگو کے جواب میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے فوری ردعمل دے دیا۔

گورنر ہاؤس میں امید رمضان دسترخوان کے تحت دوسرے افطار ڈنر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اس صوبے کا گورنر ہوں، میرے پاس جو لوگ ہیں ان سے پوچھیں کسی نے ان سے اندر آنے کیلئے قومیت پوچھی؟

ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے والے کسی بھی مہمان سے کسی نے یہ پوچھا کہ تم کون ہو، گورنر ہاؤس قومیت کی بنیاد پر تقسیم کا روادار نہیں۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھا گورنر کوئی بزدل نہیں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہاں کوئی بزدل گورنر رہتا ہے۔

گورنرسندھ نے کہا کہ صوبے کے مزید 6اضلاع میں آئی ٹی سینٹرز کھولنے جارہے ہیں، آئی ٹی کلاسز میں 50ہزار میں سے 16ہزار بچے سندھی بولنے والے ہیں۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ صوبے کی تقسیم ہونی چاہیے، بلکہ میرا کہنا یہ ہے کہ اختیارات کی تقسیم ہونی چاہیے۔

گورنرسندھ کا کہنا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک جانے چاہئیں، عوام کے مسائل حل اور ان کے بنیادی کام ہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اگر پانی نہ ملے ، گیس نہ ملے، پولیس کام نہ کرے تو عوام کیا کرے، اس لیے کہا کہ اختیار عوام تک جانا چاہیے۔

میں کسی کی بات کا جواب نہیں دینا چاہتا، میرا جواب میرا کام ہے، آئی ٹی ہے، گورنرہاؤس میں 5لاکھ لوگوں کیلئے افطار ڈنر کا انتظام ہے۔

ان کامزید کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر سیاسی جماعتوں اور قومیتوں کو یکساں نظر سے دیکھتا ہوں،
سندھ کو مضبوط کرنے والا گورنر ہوں، لعل شہباز قلندرکے مزار پر کہتا ہوں کہ میں سندھ دھرتی کا بیٹا ہوں۔

مزید پڑھیں : پیپلزپارٹی نے گورنر سندھ کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں گورنر ہاؤس میں ہونے والی تقریب کے حوالے سے صوبائی وزیر سعید غنی اور شرجیل میمن نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس کراچی کا جو استعمال ہورہا ہے وہ صرف سندھ نہیں بلکہ وفاق کے لیے بھی خطرناک ہے بعض وفاقی وزیروں نے لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی، لسانی سیاست کا دوبارہ سر اٹھانا انتہائی تشویشناک ہے۔

صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ گورنر ہاؤس، آئینی ادارے تعصب نما تقاریر کے لیے نہیں بنے، کراچی پہلے ہی یہ ماحول دیکھ چکا ہے، مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں جو تقریب ہوئی اس میں تعصب کی انتہا ہوئی ہے، سندھ ایک تھا، ایک ہے اور ایک رہے گا۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں