The news is by your side.

حکومت نے ایم کیو ایم سے کیے معاہدوں پر عملدرآمد نہیں کیا، گورنر سندھ

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ حکومت نے ایم کیو ایم سے کیے گئے معاہدوں پر عملدرآمد نہیں کیا جس کا اعتراف وزیراعظم شہباز شریف نے خود کیا ہے۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن معاہدوں کی بنیاد پر ایم کیو ایم حکومت کا حصہ بنی اس حوالے سے پارٹی میں پریشانی ہے کیونکہ 6 ماہ سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کیے گئے معاہدوں پر کسی قسم کا عمل درآمد نہیں ہوا، نہ لاپتہ کارکنان بازیاب ہوئے اور نہ ہی پارٹی دفاتر ملے، معاہدے پورے نہ ہونے کا اعتراف وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کیا ہے۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں ایک سو چالیس اے پر عملدرآمد، حلقہ بندیوں، دفاتر کی واپسی اور لاپتہ کارکنان کی بازیابی کا معاملہ اٹھایا اور انہوں نے یقین دلایا ہے کہ فوری پیش رفت ہوگی اور وہ حل نکالیں گے اور مجھے بھی امید ہے کہ دو سے تین دن میں بریک تھرو ہوگا اور ملاقات کا مثبت نتیجہ نکلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میری کوشش ہوگی کہ سسٹم ڈی ریل نہ ہو اور ایم کیو ایم حکومت کا حصہ بنی رہے اور اس کے لیے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہوں گا تاہم حکومت میں رہنا ہے یا نہیں یہ فیصلہ ایم کیو ایم کو کرنا ہے، ہمیں اپنے ووٹرز کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کرانا ہے۔

گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وفاق، صوبے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کو ختم کراکر ورکنگ ریلیشنز شپ قائم کرانا میری ترجیح ہے، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں اعتماد کا فقدان ہے جس کو ایک میز پر بٹھا کر ٹھیک کرایا جاسکتا ہے۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ بلدیاتی ترامیم کے حوالے سے جو مسودہ منظور کیا گیا ہے نہ وہ میرے پاس آیا ہے اور نہ ہی اسکو ابھی تک پڑھا ہے، جب مسودہ میرے تک پہنچے گا اسکے بعد فیصلہ کروں گا کہ اسے منظور کرنا ہے یا مسترد کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اپنا وعدہ پورا کریں جو انھوں نے کراچی آکر کیا تھا، میں خود ان سے رابطہ کرکے معاملے پر پیش رفت کا پوچھوں گا۔

کامران ٹیسوری نے ایم کیو ایم رہنما عامر خان سے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عامر خان سے میرا کوئی اختلاف نہیں، کوئی ایسا پروگرام نہیں جس میں عامر خان کو نہ بلایا گیا ہو جب کہ جب میری بطور گورنر میری نامزدگی ہوئی تو عامر خان نے میرے نام پر رضامندی بھی ظاہر کی اور مبارکباد بھی دی، وہ میلاد کے پروگرام میں شاید اپنی طبیعت کی ناسازی کے باعث شرکت نہ کرسکے۔

گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار سے میرا تعلق تھا ہے اور رہے گا تاہم ایم کیو ایم میں فاروق ستار کی شمولیت کا فیصلہ ایم کیو ایم اور خالد مقبول صدیقی نے کرنا ہے، پی ایس پی سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے خالد مقبول کا واضح پیغام ہے کہ جو ایم کیو ایم کا حصہ رہے ہیں وہ واپس آکر دوبارہ کام کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الگ الگ دھڑوں میں رہ کر کوئی کامیاب نہیں ہوسکتا، سب کو ملانے کے حوالے سے جلد بڑی پیش رفت ہوگی، اس حوالے سے میرے پاس کوئی آئے گا تو اسے ساتھ ملنے کا اچھا مشورہ دوں گا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ تھا کہ مزار قائد پر حاضری کے بعد شہدا قبرستان یاسین آباد جاؤں اور قبرستان جاکر فاتحہ خوانی کرنا کوئی غلط کام تو نہیں، کون میرے بارے میں کیا کہتا ہے اسکا جواب دینے کی ضرورت نہیں، ایک ماہ کے اندر میرا عمل دکھائے گا کہ میرے خلاف باتیں کرنے والے صحیح ہیں یا خالد مقبول کا مجھے گورنر بنانے کا فیصلہ درست ہے۔

کامران ٹیسوری نے بتایا کہ اسٹریٹ کرائمز پر سخت نوٹس لیا ہے، سیف سٹی پراجیکٹ میرا خواب ہے جسے جلد پورا کروں گا، سیف سٹی پراجیکٹ ہی شہریوں کو اس کرائم سے بچا سکتا ہے، اس پراجیکٹ کو سالوں سال پہلے مکمل ہوجانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ خورشید بیگم میموریل ہال کی واپسی میری پارٹی کا مسئلہ ہے، وہ اس معاملے پر سندھ حکومت سے کیا بات کر رہے ہیں انکو معلوم ہوگا، کون سا دفتر لینا ہے اور کون سا نہیں لینا اس پر خالد مقبول مذاکرات اور بات چیت کر رہے ہیں، میں سیاسی معاملات میں زیادہ مداخلت نہیں کرسکتا، میری کوشش ہوگی کہ صوبے کو بہتر سے بہتر بنانے میں کردار ادا کروں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں