The news is by your side.

Advertisement

کنگنا رناوت نے 1947 کی آزادی کو ‘بھیک’ قرار دے دیا

متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں کی زینت بننے والی بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کا 1947 میں ملنے والی آزادی کو بھیک قرار دینے کا ایک اور متنازع بیان سامنے آگیا ہے۔

بھارت کی مشہور اداکارہ کنگنا رناوت کی جانب سے متنازع بیانات کا سلسلہ گزشتہ کچھ ماہ سے مسلسل جاری ہے کہ ایک مرتبہ پھر بالی ووڈ اداکارہ نے متنازع بیان داغ دیا ہے جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کی جانب سے کنگنا پر ملک سے غداری کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کنگنا رناوت نے ایک انٹرویو میں 1947 میں ملی آزادی کو بھیک کہتے ہوئے تبصرہ کیا سبھاش چندر بوس سمیت تمام مجاہدین نے آزادی کیلئے قربانی دیں اور اس راہ میں اپنا خون بہایا لیکن 1947 میں جو ملی وہ آزادی نہیں ‘بھیک’ تھی بھارت کو اصل آزادی تو 2014 میں ملی ہے۔

واضح رہے کہ سن 2014 میں بھارت کے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی بھاری اکثریت سے وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی اور گجرات فسادات میں اہم کردار نبھانے والے نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔

کنگنا رناوت کے اس بیان پر بی جے پی رہنما ورون گاندھی نے انہیں ملک کی غدار قرار دیتے ہوئے اظہار برہمی کیا اور کہا کہ ‘کبھی مہاتما گاندھی جی کی قربانی اور جدوجہد کی بے عزتی، کبھی ان کے قاتل کی عزت افزائی، اور اب شہید منگل پانڈے سے لے کر رانی لکشمی بائی اور سبھاش چندر بوس تک لاکھوں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی بے عزتی’۔

ورون گاندھی نے کہا کہ بالی ووڈ اداکارہ کی سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری؟

اداکارہ کے بیان پر سکھ رہنما نے کہا کہ منجندر سنگھ سرسا نے کہا کہ ‘آزادی کو بھیک کہنا، ایسا لگتا ہے کنگنا رناوت ذہنی دیوالیہ پن کا شکار ہوچکی ہیں’۔

Comments

یہ بھی پڑھیں