ہفتہ, مئی 16, 2026
اشتہار

کنور مہندر سنگھ بیدی کی عدالت اور کم عمر ملزم

اشتہار

حیرت انگیز

کنور مہندرسنگھ بیدی کو بحیثیت شاعر بھارت اور پاکستان میں یکساں مقبولیت حاصل تھی۔ شاعر ہی نہیں وہ ایک بہترین نثر نگار بھی تھے۔ بیدی صاحب کو اردو زبان سے عشق تھا، ان کا تخلّص سحر تھا۔ شاعری کے ساتھ ساتھ بطور سفیرِ ادب بھی انھیں دونوں ملکوں میں پہچانا جاتا ہے۔ بھارت میں کنور صاحب نے غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی ترقی اردو بورڈ کے نائب صدر کے طور پر اردو زبان و ادب کی خدمت کی اور اس عرصہ میں پاکستان بھی ان کا آنا جانا لگا رہا۔ یہاں انھیں ادبی محافل اور مشاعروں میں خاص طور پر مدعو کیا جاتا تھا۔

یہاں ہم کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی بذلہ سنجی اور ظرافت کے علاوہ بطور منصف ان کی عدالت میں پیش ہونے والا ایک واقعہ نقل کررہے ہیں۔ یہ اقتباسات ہم نے خلیق انجم کی کتاب "مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا” سے لیے ہیں۔

بذلہ سنجی، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی میں کنور صاحب کا جواب نہیں۔ کوئی شخص چاہے جیسی ان پر چوٹ کرے، انھیں کبھی غصہ نہیں آئے گا۔ ہمیشہ ہنس کر ایسا جواب دیں گے کہ چوٹ کرنے والے کے دانت کھٹے ہو جائیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ سینے۔ ایک دفعہ ایک پٹھان کسی کام سے کنور صاحب کے پاس آئے۔ گفتگو کے دوران وہ بے تکلف ہو گئے۔ انھیں کچھ مذاق کی سوجھی۔ کہنے لگے کنور صاحب! آپ تو پڑھے لکھے سردار ہیں۔ کیا یہ بات واقعی صحیح ہے کہ دن کے بارہ بجے سرداروں کو کچھ ہو جاتا ہے۔ کنور صاحب نے کہا کہ یہ تو لوگوں نے یوں ہی مذاق بنا رکھا ہے ورنہ اس کا حقیقت سے کیا تعلق؟ ان صاحب نے اصرار کیا کہ انھوں نے خود بارہ بجے سرداروں کو بہکتے دیکھا ہے۔ کنور صاحب نے پھر سنجیدگی سے جواب دیتے ہوئے کہا بھائی، سردار ذہانت میں علم میں، قابلیت میں کسی ہندوستانی سے کم تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ یہ تو لوگوں نے لطیفے گھڑ لیے ہیں۔ کنور صاحب بات ٹالنا چاہتے تھے، لیکن وہ پٹھان صاحب اصرار کیے جا رہے تھے کہ سب سردار بارہ بجے بہک جاتے ہیں۔ بحث ختم کرنے کے لیے کنور صاحب نے کہا، فرض کیجیے آپ درست فرما رہے ہیں، تو کیا ہوا؟ پٹھان صاحب فرمانے لگے، لیکن ہماری گلی میں تو ایک سردار رہتا ہے، وہ رات کو بھی بہکتا ہے۔ اب کنور صاحب کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا۔ اور ساتھ ہی ان کی حسّ مزاح جاگ اٹھی۔ فرمانے لگے میاں سرداروں میں ایسا ہی ہوتا ہے جو میں بتا رہا ہوں۔ وہ سالا پٹھان سے سکھ ہوا ہوگا۔ وہ صاحب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

دہلی والا ہونے کی وجہ سے یہ بات میرے علم میں ہے کہ دہلی میں کنور صاحب مجسٹریٹ کی حیثیت سے بہت مقبول تھے۔ لوگ اُن کی حق پرستی اور انصاف کے بہت قائل تھے۔ اسی لیے مظلومین اور ان کے وکیلوں کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کا مقدمہ کنور صاحب کی عدالت میں پیش ہو۔

عدالت مجبور ہوتی ہے کہ اپنا فیصلہ پیش کی گئی شہادتوں کی بنیاد پر کرے۔ لیکن کبھی کبھی کچھ لوگ ایسی غلط شہادتیں پیش کرنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے مظلوم غلط فیصلوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ کنور صاحب عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر فیصلہ کرتے وقت شہادتوں کے وقت عقل کا بھی استعمال کرتے تھے۔ اس لیے کبھی کبھی کنور صاحب کی عدالت قدیم داستانوں کے قاضی صاحب کی عدالت بن جاتی تھی۔ اس اس سلسلے کا ایک دلچسپ واقعہ سنیے۔

ایک دفعہ کنور صاحب کی عدالت میں ایک نوجوان ملزم کو پیش کیا گیا۔ اُسے تھانیدار نے گرفتار کیا تھا۔ تھانیدار کا کہنا تھا کہ ایک رات وہ گشت کر رہا تھا، اس نے دیکھا کہ کوئی شخص دیوار سے چپکا کھڑا ہے، تھانیدار کو دیکھتے ہی وہ بھاگ نکلا۔ تھانیدار نے پیچھا کر کے اسے پکڑ لیا۔ اس کی جیب سے موم بتی، ماچس اور بلیڈ نکلا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملزم کسی واردات کے لیے وہاں کھڑا تھا۔ کنور صاحب نے پولیس کا پورا بیان غور سے سنا۔ انھوں نے دیکھا کہ نوجوان بہت کم عمر اور بہت دبلا پتلا ہے، اس کے برعکس تھانیدار بہت موٹا اور معمر ہے۔ کنور صاحب عدالت کے کمرے سے باہر آگئے۔ تھانیدار، ملزم، اس کے وکیل اور عدالت میں حاضر دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ آنے کے لیے کہا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ ملزم، وکیل، گواہ اور عدالت کے ملازمین سب پریشان تھے، کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔

کنور صاحب سب کو لے کر عدالت سے قریب رنگ روڈ کی طرف چلنے لگے، اس ہجوم کو جاتا دیکھ کر اور بھی بے شمار لوگ ساتھ ہو گئے۔ بالآخر یہ جلوس رنگ روڈ پر پہنچا۔ کنور صاحب نے دبلے پتلے ملزم اور فربہ اندام تھانیدار کو ایک ساتھ کھڑا کر کے تھانیدار سے کہا کہ میں ملزم سے دوڑنے کے لیے کہوں گا۔ آپ بھاگ کر اسے پکڑ لیجیے۔ ظاہر ہے کہ ملزم کے پیچھے دوڑنا تھانیدار کے بس کا نہیں تھا۔ مختلف بہانے کرنے لگا۔ کنور صاحب عدالت میں آئے اور ملزم کو رہا کر دیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں