کراچی : سندھ حکومت نے محرم کے دوران 135 اشتعال انگیز مقررین پر 60 روزہ پابندی عائد کردی گئی، یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومتِ سندھ نے محرم الحرام کے مقدس مہینے کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑا ایکشن لیتے ہوئے صوبے بھر میں 135 اشتعال انگیز مقررین پر 60 روز کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
محکمہ داخلہ سندھ نے صوبے میں فرقہ وارانہ سرگرمیوں اور کشیدگی کے خدشے کے پیشِ نظر باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے امن و امان کی صورتحال کے جائزے کے بعد دی گئی سفارشات پر کیا گیا ہے۔
پابندی کے شکار افراد پر اپنے متعلقہ تھانوں کی حدود سے باہر جانے پر مکمل پابندی ہوگی، اس پابندی کا اطلاق صرف لائیو تقاریر پر ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا (فیس بک، یوٹیوب، ایکس وغیرہ) اور الیکٹرانک میڈیا پر کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز گفتگو یا بیانات پر بھی ہوگا۔
تمام نامزد افراد کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع کے ایس ایس پیز کے سامنے حاضر ہو کر امن و امان برقرار رکھنے اور حسنِ سلوک کے مچلکے (ضمانت) جمع کروائیں۔
محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی بھی مقرر یا فرد نے ان احکامات کی خلاف ورزی کی، تو اس کے خلاف سندھ مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ داخلہ سندھ نے اس اہم حکم نامے کی نقول انسپکٹر جنرل سندھ پولیس، تمام ڈویژنل کمشنرز اور صوبے کے تمام ایس ایس پیز کو ارسال کر دی ہیں تاکہ اس پر سختی سے عملدرآمد کروایا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے اور اگلے 60 دنوں تک برقرار رہے گی۔


