The news is by your side.

Advertisement

کراچی: ننھی حرمین کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ دل دہلا دینے والی فوٹیج سامنے آ گئی

کراچی: شہر قائد کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سیکیورٹی گارڈز اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ سے شدید زخمی اور بعد ازاں جاں بحق ہونے والی تین سال کی ننھی حرمین کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ اس سلسلے میں دل دہلا دینے والی فوٹیج سامنے آ گئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق شاہ لطیف کے علاقے میں ننھی حرمین کے جاں بحق ہونے کے واقعے نے ایک بار پھر مختلف سطح پر سوالات اٹھا دیے ہیں، ننھی بچی کی موت نے دلوں کو ایک بار پھر رُلا دیا ہے۔

فائرنگ کے فوراً بعد کی سی سی ٹی وی فوٹیج اے آر وائی نیوز کو حاصل ہوئی ہے، جس میں مقابلے کے بعد حرمین کو زخمی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے، حرمین کو جائے وقوع سے چند قدم دور اسپتال لے جایا گیا تھا۔

ویڈیو کے مطابق حرمین کا بھائی اپنی بہن کوگود میں اٹھا کر اسپتال میں داخل ہوا، لیکن اسپتال کے عملے نے بچی کو طبی امداد دینے سے انکار کر دیا، جس پر شہباز ریسکیو اہل کار کے ساتھ واپس نکلا، واپسی پر ریسکیو اہل کار کو حرمین کوگود میں اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قریب سے گزرنے والی رینجرز کی گاڑی ملزمان کا پیچھا کرتی ہے، دور جا کر رینجرز اہل کار زخمی ملزم کو گرفتار کر لیتے ہیں، اور پھر زخمی ملزم کو اسی اسپتال لایا جاتا ہے جہاں چند منٹ قبل زخمی بچی کو لایا گیا تھا۔

کراچی میں خواتین ایم ایل اوز کا معاملہ، سیکریٹری ہیلتھ سندھ کو آگاہ کر دیا گیا

فوٹیج میں ملزم کی آنکھوں پر پٹی بندھی بھی دیکھی جا سکتی ہے، ملزم کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا، لیکن اسی اسپتال میں بچی کو طبی امداد فراہم نہیں‌ کی گئی۔

اگرچہ تفتیشی حکام کی جانب سے اس سلسلے میں مزید تحقیقات کا عمل جاری ہے لیکن تین سالہ حرمین اب دنیا میں نہیں رہی، آج اس کی تدفین بھی کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ننھی حرمین کی موت کے ساتھ کراچی میں لیڈی ایم ایل اوز کی شدید قلت کا مسئلہ بھی ابھر کر سامنے آ گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں