The news is by your side.

Advertisement

کراچی:‌ افطاری پر بیٹھے پولیس اہلکاروں‌ پرمسلح افراد کی فائرنگ، 4 شہید

کراچی: شہر قائد کے علاقے سائٹ ایریا میں افطار پر بیٹھے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں چار اہلکار شہید ہوگئے،وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکاروں کو حبیب بینک چورنگی کے قریب افطاری کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والوں میں تین کانسٹیبل اور ایک اے ایس آئی شامل ہے۔

فائرنگ کے نتیجے میں دو اہلکار جائے وقوعہ پر شہید ہوئے جبکہ دو زخمیوں اسپتال منتقل ہونے کے دوران دم توڑ گئے، فائرنگ کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور جائےوقوعہ سے شواہد اکھٹے کرنے کے ساتھ عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کرنے کا کام مکمل کیا۔

پولیس حکام نے کہا ہے کہ سائٹ اے کے پولیس اسٹیشن کی موبائل کو نشانہ بنایا گیا، سڑک پر ٹریفک کم ہونے کے باعث دہشت گرد باآسانی فرار ہوگئے۔ ایس ایس پی ویسٹ ناصر آفتاب نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں کو افطاری کے وقت نشانہ بنایا گیا، جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم کے 26 خول ملے ہیں۔

اے آر وائی کے نمائندے سلمان لودھی کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی، مسلح افراد فائرنگ کے بعد پولیس موبائل میں ایک خط بھی پھینک کر گئے ہیں۔

آئی جی سندھ پولیس کا نوٹس

دوسری جانب آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے پولیس موبائل پر فائرنگ اور اہلکاروں کی شہادت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ویسٹ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر

ایڈیشنل آئی جی کے مطابق جائےوقوعہ سےنائن ایم ایم کے30خول ملےہیں، چاروں حملہ آوروں نےہیلمٹ پہنےہوئےتھے اور وہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔

چوہدری نثار اور وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس

وفاقی وزیرداخلہ نے کراچی میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ بھی حرکت میں آئے اور واقعے کی رپورٹ طلب کرنے حملہ آوروں کی گرفتار کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید اہلکاروں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، متاثرہ خاندانوں کو اس مشکل کی گھڑی میں تنہاء نہیں چھوڑیں گے، دہشت گردوں کو بلوں سے نکال کر منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں