The news is by your side.

Advertisement

کراچی ایئرپورٹ حملہ: چارسال بعد بھی حفاظتی انتظامات جوں کے توں

کراچی : آج سے چار سال پہلے کراچی ائر پورٹ پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کے بعد ایئر پورٹس پر حفاظتی انتطامات کرنے کے حکومتی دعوے محض دعوے ہی ثابت ہوئے، حکومتی اعلان پر آج تک عمل درآمد نہ ہوسکا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی ایرپورٹ پر دہشت گرد حملے کو ہوئے چار سال بیت گئے، ائر پورٹس کے حفاظتی امور بہتر بنانے کے حکومتی وعدے چار سال بعد بھی وعدے ہی رہے۔

وفاقی حکومت نے ہوائی اڈوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کیلئے پانچ ارب ستر کروڑ روپے خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے، 8جون 2014 کو کراچی ایرپورٹ پر دہشت گرد حملہ ایرپورٹس پر ہونے والے تمام دہشت گرد حملوں میں سب سے بڑا اور زیادہ جان لیوا حملہ تھا۔

تحقیقات کے مطابق کراچی ائرپورٹ پر دہشت گرد حملہ ناکام تو بنا دیا گیا لیکن بہتر ہتھیاروں اور اہم حفاظتی سازوسامان کی کمی کے سبب جانی ومالی نقصان زیادہ ہوا۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ ائرپورٹس کی سیکورٹی کو بہتر بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے 5 ارب70 کروڑ روپے کے خرچ سے 50  بکتربند گاڑیوں، جدید مشین گنوں، ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹس کے علاوہ ائرپورٹس کی بیرونی حفاظت کیلئے سیکیورٹی کیمرے اور دیگر حساس آلات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم اب تک سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذریعے اے ایس ایف کو صرف ایک ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں، مذکورہ رقم سے50کی جگہ صرف دس بکتربند گاڑیاں ہی خریدی جاسکیں جبکہ پانچ ایرپورٹس کی جگہ صرف لاہور ایرپورٹ کی بیرونی حفاظتی باڑ کو کیمروں اور سینسرز کے زریعہ محفوظ بنایا جاسکا۔


مزید پڑھیں: ایئرپورٹ حملہ، 19افراد جاں بحق ،25 زخمی،10 دہشتگرد ہلاک


اے ایس ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ بقیہ چار ارب ستر کروڑ روپے کی فراہمی کیلئے ایوی ایشن ڈویژن کے ذریعہ وفاقی حکومت کو متعدد خطوط لکھے گئے لیکن حکومت نے اس بارے میں چار سال سے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں