The news is by your side.

Advertisement

لاپتہ افراد کیس: چیف جسٹس کا تمام درخواستوں پر کارروائی اور خصوصی سیل بنانے کا حکم

کراچی: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے لاپتہ افراد کے معاملے پر خصوصی سیل قائم کرنے اور تمام درخواستوں پر کارروائی کا حکم جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لاپتہ افراد کے حوالے سے مقدمات کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے کی جس میں ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ سمیت حساس اداروں کے اعلیٰ افسران کو جواب دینے کے لیے طلب کیاگیا۔

سپریم کورٹ کے باہر لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی بڑی تعداد چیف جسٹس کی آمد سے قبل موجود تھی جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پیاروں کی تصاویر اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔ چیف جسٹس نے مظاہرین سے درخواستیں وصول کیں اس موقع پر انہوں نے شکایات کے انبار لگا دیے۔

مزید پڑھیں: لاپتہ افراد‘ سندھ ہائی کورٹ نے دیگرصوبوں کے حراستی مراکز سے رپورٹ طلب کرلی

درخواست گزار نیلم نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ ’میرے والد 14 ماہ سے لاپتہ ہیں اور اُن کے بارے میں کوئی معلومات دینے کو تیار نہیں‘ چیف جسٹس نے آئی جی سندھ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں سے استفسار کیا کہ ’صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ 57 سالہ شخص بھی لاپتہ ہورہا ہے جس پر مجھے بہت زیادہ افسوس ہے‘۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ پہلے بھی عدالت نے حکم دیا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں اور اگر اُن کے پیاروں کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آگیا تو بھی آگاہ کردیں تاکہ کم از کم انہیں صبر تو آسکے۔

سماعت کے دوران 50 سے زائد لاپتہ افراد کے اہل خانہ کمرہ عدالت میں داخل ہوئے اور انہوں نے آہ و بکا کی اور ہنگامہ شروع ہوگیا، چیف جسٹس نے لوگوں کو خاموش کرانے کی کوشش بھی کی البتہ انہوں نے بات نہ مانی تو سماعت کو ختم کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتہ افراد کیس، عدالت کا لاوارث لاشوں کی شناخت اور ڈی این اے کیلئے میکینزم بنانے کا حکم

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں آپ کو خاموش کروارہا تھا مگر کسی نے بات نہ مانی اور عدالتی تقدس کو پامال کیا، کسی بھی خاتون کو یہ حق نہیں وہ پولیس اہلکار پر ہاتھ اٹھائے۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے شور شرابے اور بدمزگی کو دیکھتے ہوئے کمرہ عدالت میں رینجرز اور پولیس بھی طلب کی گئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں