منگل, مئی 19, 2026
اشتہار

کراچی: 100 بچیوں سے زیادتی کے مجرم نے سب کچھ اُگل دیا (ویڈیو رپورٹ)

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (15 ستمبر 2025): قیوم آباد میں 100 کمسن بچیوں سے زیادتی کے گرفتار مجرم نے اپنے گھناؤنے جرم سے متعلق سب کچھ اگل دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی کے علاقے میں دکاندار کے روپ میں انسان نما وحشی درندے شبیر احمد نے 100 کمسن بچیوں اور بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ گزشتہ دنوں اس سیریل ریپسٹ کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے خلاف متاثرہ فیملیز کی جانب سے کئی مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔

اس خبر کے مندرجات اور تفصیلات نہایت تکلیف دہ ہیں۔ کمزور دل افراد اور بچے نہ پڑھیں

گزشتہ دنوں ڈیفنس پولیس نے قیوم آباد سے شبیر احمد نامی ملزم کو گرفتار کیا، جس نے دوران تفتیش اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ اے آر وائی نیوز کے نمائندے نے بھی اس درندہ صفت مجرم سے گفتگو کی، جس میں بچیوں سے اپنی جنسی بھوک مٹانے والے اس مجرم نے سب کچھ اگل دیا۔

شبیر نے بتایا کہ اس کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور وہ 2016 میں کراچی آیا۔ ایک لڑکے کے چکر میں غلط کام میں پڑ گیا اور پھر اس کے بعد بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا۔

اس کا کہنا تھا کہ قیوم آباد میں اپنی دکان میں آنے والی بچیوں کو اس نے نشانہ بنانا شروع کیا۔ پہلے ایک بچی کو نشانہ بنایا، اس کے بعد اس کا عادی ہوگیا اور دکان میں آنے والی بچیوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ اندر لے جاتا اور ان کے ساتھ زیادتی کرتا۔

سیریل ریپسٹ نے بتایا کہ اس کی ہوس کا نشانہ بننے والی سب سے کم عمر بچی سات سال کی تھی جب کہ اس نے 8، 9، 12 اور 14 سال تک کی لڑکیوں کی پامالی کی۔ گرفتاری تک 100 سے زائد بچیوں کے ساتھ زیادتی کی۔

شبیر جس نے حیوانیت، دردنگی اور سفاکیت کی تمام انتہاؤں کو پار کر دیا۔ اس نے ریپ کی ویڈیو بنانے کے حوالے سے بتایا کہ اس نے یہ ویڈیوز کبھی کسی اور کو نہیں دیں۔ بلکہ وہ یہ اپنی تسکین کے لیے بناتا تھا۔ بچیوں کے ساتھ درندگی کے بعد وہ یہ ویڈیوز موبائل سے کمپیوٹر پر ٹرانسفر کرتا اور خود اس کو دیکھتا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ وہ ساتویں پاس ہے۔ اس نے موبائل سے ویڈیو بنا کر کمپیوٹر میں ٹرانسفر کرنا یوٹیوب کی ویڈیوز سے سیکھا۔

2016 سے 25 تک سینکؔڑوں بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے اور ان کی زندگیاں تباہ کرنے والا انسان کے روپ میں یہ وحشی درندہ کہتا ہے کہ اس کو اپنے فعل پر شرم نہیں آتی تھی۔ جو سزا ملے گی وہ قبول کروں گا۔ اس سے پولیس کی تفتیش جاری ہے اور جس میں مزید دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

نذیر شاہ
+ posts

اہم ترین

مزید خبریں