site
stats
پاکستان

اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث 2 چینی باشندوں کیخلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز

کراچی : عبداللہ ہارون روڈ سے اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث دو چینی باشندوں کیخلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے عبداللہ ہارون روڈ پر واقع نجی بینک کے اے ٹی ایم میں اسک یمنگ ڈیوائس لگاتے ہوئے پکڑے جانیوالے دو چینی باشندوں کیخلاف ایف آئی آر درج کرلیا ہے، ایف آئی آر نجی بینک انتظامیہ کی مدعیت میں ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل میں درج کی گئی۔

گذشتہ روز دو چینی باشندوں کو رنگے ہاتھوں شہریوں نے عبداللہ ہارون روڈ کے قریب سے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔

ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کے مطابق عبداللہ ہارون روڈ اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث دو چینی باشندوں سے تحقیقات جاری ہیں، ملنے والی معلومات کے مطابق دیگر ملزمان کیخلاف بھی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔

پکڑے جانے والے ملزمان کی شناخت زونگ اور چنگ کے ناموں سے ہوئی۔


مزید پڑھیں : کراچی : اے ٹی ایم سے رقم چوری کرنے والے دو چینی باشندے گرفتار


پولیس کے مطابق ملزمان کی تلاشی کے دوران موبائل فونز،ڈیٹا ریڈرز ،اسک یمنگ کارڈز برآمد ہوئے، دونوں ملزمان کاروبار کے غرض سے چار جنوری کو پاکستان آئے اور ڈیفنس 5خیابان تنظیم کے گیسٹ ہاوس میں رہائش پزیر تھے، ملزمان کی نشاندہی پر ایف آئی اے نے گیسٹ ہاوس پر بھی چھاپہ مارا، گیسٹ ہاوس سے چار عدد خالی اے ٹی ایم کارڈز ،میموری کارڈز، پے کارڈز اور دیگر اشیاء برآمد ہوئیں۔

ملزمان کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ کراچی کے پوش علاقے میں شاپنگ سینٹر سے اے ٹی ایم پاس ورڈز ہیک کرکے بھاری رقوم نکلوانے کا انکشاف ہوا تھا، جس میں  پاکستانی اے ٹی ایم صارفین کے لاکھوں روپے لوٹ لئے گئے اور ہیکرز نے پاسورڈ چوری کرکے 600سے زائد بینک اکاؤنٹس خالی کردیئے تھے۔


مزید پڑھیں: ہیکرز نے اے ٹی ایم صارفین کے لاکھوں روپے لوٹ لیے، 600 اکاؤنٹس خالی


واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کراچی کے ایک شاپنگ سینٹر میں قائم اے ٹی ایم میں ایک چینی باشندے کی اسکمنگ مشین لگاتے ہوئے خفیہ کیمرے کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top