site
stats
پاکستان

اہلیان کراچی کیجانب سے جو ملک کاغدارہے، وہ موت کاحقدارہے، کے بینرز آویزاں

کراچی: شہر قائد ان دنوں بینرزکی سیاست کی زد میں ہے، شہر کے مخلتف مقامات پر اہلیان کراچی کیجانب سے بینرز آویزاں کر دیئے گئے، جس پر جو ملک کاغدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے تحریر کیا ہوا ہے جبکہ بینرز کے آخر میں ’اہلیان کراچی‘ اور ’اہلیان پاکستان‘ پرنٹ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں شاہراہ فیصل، ناگن چورنگی، سخی حسن، ناظم آباد سمیت مختلف مقامات پر “جو ملک کاغدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے” کے بینرز آویزاں کردیے گئے، یہ بینرز بظاہر تو اہلیان پاکستان کیجانب سے لگائے گئے ہیں۔

banner-2

یہ بینرز چند روز قبل جانشین قائد تحریک کیجانب سے لگائے گئے بینرز کے جواب میں لگائے گئے ہیں۔


مزید پڑھیں : کراچی میں بانی متحدہ کے حق میں اورفاروق ستارکیخلاف بینرز آویزاں


یاد رہے کہ کراچی کےریڈ زون میں سندھ ہائیکورٹ کے باہر ایم کیو ایم بانی کے حق میں اور ایم کیو ایم پاکستان کیخلاف لگائے گئے تھے، بینرز میں نعرے درج تھے، جو قائد تحریک کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے جبکہ بدلہ گروپ کیجانب سے لگائے گئے بینرز میں فاروق ستار گروپ نامنظور کے نعرے درج تھے۔

ban

 


مزید پڑھیں : نامعلوم افراد بینرز لگا رہے ہیں،اللہ ان کو ہدایت دے،فاروق ستار


ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا بینرز کے حوالے سے کہنا تھا کہ شہر میں نامعلوم افراد بینر لگارہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 22 اگست کو ایم کیو ایم بانی نے ایم کیو ایم کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مخالف نعرے لگوائے اور کارکنوں کو میڈیا کے دفاتر پر حملوں کے لیے اکسایا۔


مزید پڑھیں:  کراچی: ایم کیو ایم کارکنان کا اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ


میڈیا ہاؤسز پر حملوں کے بعد ایم کیو ایم کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا گیا اور ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو سمیت متعدد سیکٹرز اور یونٹس بند جبکہ کئی دفاتر مسمار کئے جاچکے ہیں۔

قائد ایم کیو ایم کی پاکستان مخالف تقریراورنعروں کے بعد ایم کیوایم پاکستان نے خود کو قائد ایم کیو ایم سے لا تعلق کرلیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹرفاروق ستارکررہے ہیں۔

 

<iframe width=”640″ height=”450″ src=”https://www.youtube.com/embed/-GAOEfoqmMk” frameborder=”0″ allowfullscreen></iframe>

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top