site
stats
پاکستان

کراچی : یونیورسٹی روڈ پر 9روز قبل حادثے کی شکار طالبہ دم توڑ گئی

کراچی : یونیورسٹی روڈ پر نو دن پہلے بس حادثے کا شکار ہونے والی زخمی طالبہ ہنزہ خان زندگی کی بازی ہار گئی۔

کراچی کی ٹوٹی سڑکوں پر حادثات کے نتیجے میں دس روز میں پانچ طلبا جان سے گئے، وفاقی اردو یونیورسٹی کی طلبہ ہنزہ خان سب کو روتا چھوڑ گئیں نیٹ یونیورسٹی روڈ پر بس حادثے میں زخمی ہونیوالی ہنزہ دو ہفتے سے وینٹی لیٹر پر زندگی کی جنگ لڑرہی تھی لیکن آج موت کے آگے ہار گئیں۔

بی ایڈ کی طالبہ ہنزہ استاد بنا چاہتی تھی لیکن نو روز پہلے بس حادثے کا شکار ہوگئی تھی جبکہ اس حادثے میں ساتھی طلبہ فاطمہ موقع پر ہی دم توڑ گئی تھی۔

دوسری جانب یونیورسٹی روڈ پر بڑھتے ہوئے حادثات کے خلاف اردو یونیورسٹی کے سامنے طلبا کا مظاہرہ کررہے ہیں،طلباء کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کو فراہم کی گئی بسیں کہاں ہیں، وائس چانسلر آکر مذاکرات کریں۔

اردو یونیورسٹی کے احتجاجی طلباء نے 10نکاتی مطالبات پیش کئے ، جس میں وائس چانسلر کی برطرفی کا مطالبہ بھی شامل ہیں۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے جاں بحق طلبا کے لواحقین کیلئے پانچ لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔


مزید پڑھیں : کراچی : پٹیل پاڑہ میں مسافر بس نے طالبعلم کو کچل دیا


اس سے قبل آج صبح کراچی کے علاقے پٹیل پاڑہ میں مسافر بس نے طالبعلم کو کچل دیا، جاں بحق طالبعلم کی شناخت غلام اللہ خان کے نام سے ہوئی ہے، جاں بحق طالبعلم گلگت استور کا رہائشی ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز یاد رہے گذشتہ روز بھی یونیورسٹی روڈ پر تیز رفتار منی بس کو حادثے میں چار افرادجاں بحق اور گیارہ زخمی ہوگئے تھے، حادثے میں جاں بحق 2 خواتین یونیورسٹی طالبات تھیں، جو یونیورسٹی سے نکلی تھیں اور شاید بس سٹاپ پر کھڑی تھیں۔ دونوں طالبات وفاقی اردو یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھیں۔ ایک طالبہ کی شناخت رابعہ بتول کے نام سے ہوئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top