بدھ, جولائی 15, 2026
اشتہار

کراچی میں کیش وین سے 30 کروڑ کی ڈکیتی کے واقعے میں اہم پیشرفت

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی کے علاقے واٹر پمپ کے قریب کیش وین سے 30 کروڑ کی ڈکیتی کے واقعے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سینٹرل پولیس نے کیش وین ڈرائیور اور 2 گارڈز کو حراست میں لے لیا، ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد واردات میں شامل تھے یا نہیں ان سے تفتیش کررہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واردات کا ماسٹر مائنڈ چیف کریو واجد تھا جس نے ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی تھی۔

تفتیشی حکام کے مطابق رقم کیش وین سے ڈبل کیبن گاڑی میں منتقل کروائی گئی جس میں سوار چاروں ملزمان واجد سے رابطے میں تھے، ڈکیتی کے بعد کیش وین کے دروازے باہر سے لاک کردیے گئے۔

یہ پڑھیں: کراچی میں کیش وین سے 30 کروڑ لوٹنے کی واردات، ماسٹر مائنڈ کون نکلا؟

پولیس کا بتانا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں ڈرائیور اور 2 گارڈز کے ملوث ہونے کے شواہد ملے، مشتبہ ڈرائیور اور گارڈز کو حراست میں لیا جبکہ مرکزی ملزم واجعد اور دیگر ساتھی شہر سے فرار ہوگئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ رقم لے جانے والی گاڑی طارق روڈ کے دفتر سے روانہ ہوئی تھی، 20 تھیلوں میں بھاری رقم لے جائی جارہی تھی۔

تفتیشی حکام نے کہا کہ جائے واردات کی جیو فینسنگ اور کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کرلیا گیا ہے، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اہم ترین

سلمان لودھی
سلمان لودھی
سلمان لودھی اے آر وائی نیوز کراچی کے کرائم رپورٹر ہیں۔

مزید خبریں