The news is by your side.

Advertisement

سخت جان ڈاکو کیسے پکڑا گیا، کیسے تماشا دیکھنے والا شہری زخمی ہوا؟

کراچی: شہر قائد کے ایک علاقے میں مسلح لٹیرے اور شہریوں کے درمیان خوف ناک جدوجہد پر مبنی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی شہری مل کر سخت جان ڈاکو کو پکڑنے کی تگ و دو کر رہے ہیں، اور اس دوران کئی گولیاں چلتی ہیں اور ایک شہری گولی لگنے سے زخمی ہو جاتا ہے۔

واقعے میں ملوث ڈاکو بھی مکینوں کے ہاتھوں تشدد کے بعد اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔

یہ واقعہ جمعہ کے روز کراچی کے علاقے ناظم آباد نمبر 7 میں رات ساڑھے 9 بجے کے بعد پیش آیا تھا، ایک لٹیرے نے پستول کے زور پر نماز کے بعد گھر کے باہر کھڑے شہری کو لوٹا، جیسے ہی وہ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر فرار ہونے لگا، شہری نے پیچھے سے لپک کر اسے پکڑ لیا۔

دونوں کے درمیان کچھ دیر تک جدوجہد جاری رہی، شہری اسے قابو کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا، اس دوران موٹر سائیکل گر گئی تاہم ڈاکو کے پیر اس میں پھنسے رہے جس کی وجہ سے وہ سنبھل نہیں پایا، اور شہری نے اس کے پستول والے ہاتھ کو پھر سے پکڑنے کی کوشش شروع کر دی۔

مزاحمت کے دوران، فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے، کہ پستول سے گولی چلی اور شعلہ لپکتا دکھائی دیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

کچھ ہی دیر بعد آس پاس مزید لوگ جمع ہونے لگے، اور دو افراد نے جھجھکتے ہوئے ڈاکو کے قریب آ کر اسے پکڑنے کی ہمت کی، اور ممکنہ گولیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے قابو کرنے لگے۔

ڈاکو بڑا سخت جان ثابت ہوا، تاہم مزید افراد آنے کے بعد انھوں نے ڈاکو کو قابو کر کے تشدد کا نشانہ بنایا، اس سے قبل ڈاکو نے جان بچانے کے لیے کئی گولیاں چلائیں، کئی منٹ تک شہری اور ڈاکو آپس میں گتھم گتھا رہے، اور 4 افراد مل کر بھی ایک ڈاکو سے پستول چھیننے میں ناکام نظر آئے۔

لوگوں کے نیچے پھنسے ڈاکو کو علاقہ مکینوں نے مار مار کر بے حال کر دیا تھا، بدترین تشدد کا نشانہ بنتے ڈاکو نے پھر سے گولی چلا دی، جو گھر کے دروازے کے پاس کھڑے فہد نامی ایک شخص کی ٹانگ میں جا لگی، گولی لگتے ہی شہری کو لنگڑا کر کار کے پیچھے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

علاقہ مکینوں نے جدوجہد کے بعد ڈاکو کو آخر کار قابو کر ہی لیا اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا، شدید زخمی ڈاکو اور شہری دونوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

ڈاکو ہلاک

واقعے میں ملوث ڈاکو بھی مکینوں کے ہاتھوں تشدد کے بعد اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔ اے آر وائی نیوز نے ڈاکو کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی حاصل کر لیا۔

ہلاک ڈاکو شیر افضل پر مقابلے کے 2 کیسز درج تھے، وہ 2013 میں پولیس مقابلہ کیس میں قید ہو چکا تھا، شیر افضل 2011 میں غیر قانونی اسلحہ کیس میں بھی گرفتار ہوا تھا، اس کے پاس سے گلاک درہ پستول برآمد ہوا، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تشدد سے ہلاک ڈاکو انتہائی خطرناک تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں