The news is by your side.

Advertisement

کراچی، سوک سینٹر میں فائرنگ کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

کراچی: شہر قائد میں واقع کے ڈی اے سوک سینٹر میں فائرنگ کے واقعے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں واقع سوک سینٹر میں فائرنگ سے زخمی شخص حفیظ الحسن 15 سال سے زائد عرصے سے برانچ میں تعینات تھا اور ڈائریکٹر میٹروول سائٹ برانچ میں کے ڈی اے تھا، حفیظ الحسن نے مبینہ طور پر تبادلہ رکوانے کے لیے فائرنگ کی، واضح رہے کہ فائرنگ کے واقعے میں  2 افراد جاں بحق اور حفیظ الحسن زخمی ہوا تھا۔

کے ڈی اے افسر کے مطابق ڈائریکٹر لینڈ کے ڈی اے رضا قائم خانی نے حال ہی میں چارج سنبھالا تھا، چارج سنبھالتے ہی طویل مدت سے تعینات افسران کے تبادلے کیے تھے، حفیظ الحسن نے اپنا تبادلہ رکوانے کی کوشش کی تھی۔

کے ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ حفیظ الحسن نے اپنا تبادلہ رکوانے کی کوشش کی تھی، حفیظ نے بااثر اور ڈائریکٹر لینڈ کے قریبی افسر سے رابطہ کیا تھا، تبادلہ رکوانے کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر وسیم رضا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر وسیم عثمانی سے کئی دن سے بات چیت چل رہی تھی.

مزید پڑھیں: کراچی، سوک سینٹر کی تیسری منزل پر فائرنگ، 2 افراد جاں‌ بحق

حکام کے مطابق وسیم رضا، ایڈیشنل ڈائریکٹر 20 سال سے زائد میٹروول میں تعینات تھے، بات نہ بننے پر آج حفیظ اسلحہ کیساتھ وسیم عثمانی کےآفس میں آیا، کمرے سے سب کو نکال کر حفیظ نے ٹرانسفر پر بات شروع کی، بات نہ بننے پر حفیظ نے وسیم رضا اور وسیم عثمانی پر فائرنگ کی۔

کے ڈی اے افسر کے مطابق فائرنگ کے وقت کمرے میں سپرنٹنڈنٹ عمران شاہ موجود تھا، حفیظ الحسن اور عمران شاہ ہزارہ وال کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، وسیم عثمانی کے سینے میں گولی لگی اور وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

واضح رہے کہ سوک سینٹر لینڈ ڈیپارٹمنٹ میں فائرنگ سے وسیم عثمانی اور وسیم رضا جاں بحق ہوئے تھے جبکہ مبینہ طور پر فائرنگ کرنے والا سپرنٹنڈنٹ حفیظ زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے جس کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں