کراچی: صوبائی دارالحکومت کے علاقے کورنگی کی بلال کالونی میں مردہ اور بیمار جانوروں کی چربی سے مضرِ صحت کوکنگ آئل تیار کیے جانے کا ہولناک انکشاف ہوا ہے۔
اے آر وائی نیوز پر خبر نشر ہونے کے بعد انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آ گئی ہے اور اسسٹنٹ کمشنر کورنگی نے سندھ فوڈ اتھارٹی کو فوری اور ہنگامی کریک ڈاؤن کے لیے خط لکھ دیا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر کورنگی کی جانب سے لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی فیکٹری میں مردہ جانوروں کی چربی کھلے عام پلاسٹک کی بوریوں میں ذخیرہ کی گئی ہے، جہاں کھلی آگ پر چربی کو ابال کر زہریلا اور مضرِ صحت کوکنگ آئل تیار کیا جا رہا ہے۔
خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ تیار شدہ زہریلا تیل کراچی کی مختلف مارکیٹوں میں سپلائی کیے جانے کا قوی امکان ہے، جبکہ یہ فیکٹری سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے۔
خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس غیر قانونی فیکٹری کے باعث بلال کالونی کے مکین شدید بدبو اور ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہیں، جبکہ فیکٹری سے نکلنے والے زہریلے دھوئیں کے باعث علاقے کے بچوں اور بزرگوں کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر نے سندھ فوڈ اتھارٹی سے سفارش کی ہے کہ اس غیر قانونی فیکٹری کو فوری طور پر سیل کیا جائے اور وہاں موجود تیل کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے ضبط کیے جائیں۔
اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں اس تیل کی سپلائی چین کا سراغ لگا کر ذمہ داروں کے خلاف سخت مقدمات درج کیے جائیں اور عوام کو مارکیٹ میں موجود غیر برانڈڈ اور کھلے کوکنگ آئل کے استعمال سے متعلق خبردار کیا جائے۔
اسسٹنٹ کمشنر کورنگی کا کہنا ہے کہ مردہ جانوروں کی چربی کو انسانی خوراک میں استعمال کرنا کسی صورت قابلِ برداشت نہیں ہے۔ انہوں نے اس ہنگامی خط کی ایک کاپی ڈپٹی کمشنر کورنگی کو بھی ارسال کر دی ہے تاکہ معاملے کی اعلیٰ سطح پر نگرانی کی جا سکے۔


