کراچی (19 جون 2026): عدالت نے معذور سرکاری ملازم کی بیٹی کو انصاف فراہم کرتے ہوئے اس کی ملازمت ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں پاکستان پوسٹ کے معذور ملازم کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی بیٹی کی ملازمت ختم کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ملازمت ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے خاتون کی ملازمت پر فوری بحالی اور تمام واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
درخواست کی سماعت کے دوران مدعیہ کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار جویریہ کے والد پاکستان پوسٹ آفس میں پورٹر کے عہدے پر ملازم تھے۔ ان طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ کے بعد بیٹی نے معذوری کوٹے پر ملازمت حاصل کی، لیکن 2025 میں درخواست گزار خاتون کی ملازمت کو غیر قانونی طور پر ختم کر دیا گیا۔
اس موقع پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم امدادی پیکیج اور معذور ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق پالیسی اب موثر نہیں رہی۔
سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں معذور ملازمین کے کوٹے سے متعلق پالیسیاں ختم کر دی گئیں، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق درخواست گزار تقرری کی حق دار نہیں تھیں۔
عدالت نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار خاتون کی تقرری سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی عمل میں آچکی تھی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں واضح ہے کہ پہلے سے کی گئی تقرریاں متاثر نہیں ہونگی،
سندھ ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو کانٹریکٹ تقرری کے تسلسل میں مستقل بنیادوں پر نئی تقرری کا حکمنامہ جاری کرنے اور تمام سابقہ مراعات و تنخواہیں فوری ادا کرنے کے احکامات جاری کیے۔


