The news is by your side.

کراچی : جرائم کی وارداتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

کراچی : شہر قائد میں جرائم کی بڑھتی وارداتوں میں اضافے کی بڑی وجہ کوئی اور نہیں پولیس کا اپنا محکمہ ہے جہاں اہم تعیناتیاں التواء کا شکار ہیں۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پیز) کی 26 آسامیاں تاحال خالی ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہر قائد میں روز بروز بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باوجود ایس پیز کی نشستوں کو دانستہ طور پر خالی رکھا جا رہا ہے۔

آئی جی کی گڈ پولیسنگ کے دعوے بھی ایس پیز رینک کی خالی سیٹوں تلے دبے دکھائی دے رہے ہیں، ایس پیز کی سیٹ خالی ہونے سے اثر و رسوخ رکھنے والے ایس ایس پیز ضلع کے بے تاج بادشاہ بنے ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے من پسند ماتحت افسران کی تعیناتیوں میں الجھے ہوئے ہیں، شہر کے کچھ اضلاع میں جونیئر رینک کے افسران کو ایس ایس پی کے عہدے پر بھی تعینات کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق جونیئر رینک ایس ایس پیز کے ساتھ زیادہ تر افسران ایس پی کی حیثیت سے کام کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔

علاوہ ازیں ماہ ستمبر کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں رواں سال اسٹریٹ کرائمز کی 56 ہزار 500 سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں، ان وارداتوں میں مزاحمت پر 58 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ اسٹریٹ کرمنلز کے ہاتھوں 269 افراد زخمی ہوئے۔

کراچی شہر میں رواں برس اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے ذریعے 19 ہزار موبائل فون چھینے گئے اور گھروں میں ڈکیتی کی 303 وارداتوں میں کروڑوں روپے مالیت کا سامان لوٹا گیا۔

شہر میں چھینی گئی گاڑیوں کی تعداد 104 ہے جبکہ 35 ہزار شہریوں کو موٹرسائیکلوں سے محروم کردیا گیا جبکہ 1383 گاڑیاں چوری کی گئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں