کراچی(10 جولائی 2026): سعود آباد میں ڈینٹسٹ کے 11 سالہ بیٹے کے اغوا کی واردات سامنے آئی ہے، جسے سعود آباد پولیس نے انتہائی مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض 9 گھنٹے کے اندر بحفاظت بازیاب کروا لیا ہے۔
ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کے مطابق اغوا کی واردات کے فوراً بعد پولیس نے متحرک ہو کر ملزمان کی گاڑی کا نمبر ٹریس کیا اور ان کی تفصیلات حاصل کر کے ایک ممکنہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا، جہاں معلوم ہوا کہ ملزمان وہاں سے اپنا گھر تبدیل کر چکے ہیں۔
تاہم پولیس نے ہیومن انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنیکل طریقہ کار کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانا جاری رکھا۔ جب ملزمان کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا گیا تو وہ گرفتاری کے ڈر سے بچے کو ماڈل ٹاؤن میں ایک مشہور اسٹور کے قریب چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
ایس ایس پی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملزمان کی تمام تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں اور انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا، جبکہ واقعے کے اصل حقائق جاننے کے لیے بچے سے بھی معلومات لی جائیں گی۔
مغوی بچے خضر دانش کے والد ریاض نے سعود آباد تھانے میں مقدمے کے لیے دی گئی درخواست میں بتایا کہ رات پونے دو بجے ان کے ایک بیٹے کے انتقال پر گھر میں قرآن خوانی چل رہی تھی۔
دانش کے والد ریاض نے پولیس کو بتایا کہ اس دوران ان کے دو بیٹے اور بھانجی چیز خریدنے کے لیے پیسے لے کر باہر گئے۔ کچھ دیر بعد بڑا بیٹا اور بھانجی روتے ہوئے واپس آئے اور بتایا کہ سلور رنگ کی کار میں سوار کچھ ناواقف لوگ خضر دانش کو زبردستی اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
اہلخانہ نے گاڑی کا پیچھا بھی کیا لیکن ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچے کو بحفاظت بازیاب کروایا۔


