اتوار, اگست 16, 2026
اشتہار

کراچی : 3 سالہ کلثوم کے قتل کا ڈراپ سین ، سگی چچی ہی قاتلہ نکلی

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : قائد آباد میں 3 سالہ کلثوم کی سگی چچی ہی قاتلہ نکلی ، ملزمہ نے اپنے بھائی نادر کو بلایا اورکہا لاش کو ٹھکانے لگاکر آؤ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے قائد آباد سے 23 جون کو ملنے والی 3 سالہ معصوم بچی کلثوم کی تشدد زدہ بوری بند لاش کے ہائی پروفائل کیس کا ڈراپ سین ہو گیا۔

پولیس نے 25 دن کی انتھک تحقیقات کے بعد کیس حل کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بچی کو کسی غیر نے نہیں بلکہ اس کی سگی چچی نے بے دردی سے قتل کیا۔

پولیس ذرائع نے کہا کہ گرفتار مقتولہ کی چچی نے تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، جبکہ اس کا بھائی نادر پہلے ہی اعترافِ جرم کر چکا تھا۔

ملزمان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ کلثوم کو قتل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی گئی تھی۔ تاہم، پوسٹ مارٹم اور تفتیش کے دوران 3 سالہ کلثوم کی ٹانگوں پر تشدد کے کئی نشانات پائے گئے تھے۔

تحقیقات میں یہ چونکا دینے والی بات سامنے آئی ہے کہ سگی چچی نے معصوم کلثوم کو بیدردی سے قتل کرنے کے بعد لاش کو خود بوری میں ڈالا، اس کے بعد اس نے اپنے بھائی نادر کو بلایا اور بوری حوالے کرتے ہوئے کہا کہ "اسے کہیں دور ٹھکانے لگا کر آؤ”، لیکن ملزمہ کا بھائی خوفزدہ ہو کر یا کسی اور وجہ سے دور جانے کے بجائے، وہ بوری بند لاش گھر کی دہلیز کے اندر ہی رکھ کر فرار ہو گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں شروع دن سے ہی شک تھا کہ اس اندھے قتل میں کوئی قریبی شخص ملوث ہے، کیونکہ لاش گھر کے اندر سے ہی ملی تھی۔ کیس کو سائنسی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پولیس نے خاندان اور قریبی اراکین سمیت 50 سے زائد افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے، جس کے بعد پولیس 25 دن کے اندر اس ہائی پروفائل کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کامیاب رہی۔

پولیس ذرائع کے مطابق، مرکزی قاتلہ چچی اور اس کے سہولت کار بھائی نادر سمیت دونوں ملزمان کو آج باقاعدہ طور پر ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں پولیس کی جانب سے تفتیش مکمل کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ نمائندہ خصوصی ہیں، وہ 16 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔

مزید خبریں