The news is by your side.

Advertisement

روشنیوں کے شہر میں عوامی فلاح کا "عہد”

دنیا میں کورونا کی وبا کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنے ذریعۂ معاش سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ پاکستان میں بھی لوگوں کو معاشی مسائل کا سامنا ہے اور کئی خاندانوں کی مشکلات اس وبا کے سبب بڑھ گئی ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ متوسط طبقہ تو اب غربت کی لکیر کے قریب پہنچ گیا ہے اور اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے۔ ان حالات میں کچھ ادارے عوامی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کرتے ہیں جو قابل ستائش ہیں۔ کے الیکٹرک کا ”عہد“ پروگرام بھی ایسے منفرد اقدامات میں سے ایک ہے اور تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔

پانی اور بجلی کے بل خاص طور پر عام آدمی کی جیب پر بوجھ تصور کیے جاتے ہیں اور آمدن کا بڑا حصہ اِن کی نذر ہوجاتا ہے۔ اس ماحول میں عوام کا بجلی کے کنڈے اور پانی کے غیرقانونی کنکشنز کی طرف راغب ہونا عام سی بات ہے۔ بجلی کے غیرقانونی کنکشن جو عرفِ عام میں ”کنڈے“ کہلاتے ہیں، پورے کراچی میں دیکھے جاسکتے ہیں اور اس سے بجلی فراہم کرنے والے ادارے کو بہت زیادہ مالی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ اس نقصان سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ جن علاقوں میں بجلی کے نادہندگان زیادہ ہیں، اُن کی بجلی منقطع کردی جائے یا میٹرز بند کردیے جائیں۔ انہیں سہولتیں دینا بھی بند کردی جائیں، جیسے لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہونے کی سہولت، جو ایسے علاقوں میں دی جاتی ہے جہاں کے رہائشی باقاعدگی کے ساتھ اپنے بل ادا کرتے ہیں۔

بجلی منقطع کرنے یا میٹر بند کرنے کے اقدامات کی وجہ سے بجلی فراہم کرنے والے ادارے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے علاقے کے لوگ معاشی مسائل کے باعث بھی باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا نہیں کرپاتے اور بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہوجاتے ہیں۔

ان سب عوامل کی روشنی میں کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے بڑے غوروخوض کے بعد حال ہی میں ”عہد“ نامی ایک پروگرام شروع کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد عوام کو سہولت پہنچانا اور معاشی مشکلات کا شکار لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چند بڑے شہروں میں سے ایک شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی واحد پاور یوٹیلیٹی کو اس شہر اور اس کے رہائشیوں کے مسا ئل کا علم ہے اور اپنے صارفین کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے کے الیکٹرک نے ”عہد“ کے نام سے صارفین کو بلوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک منفرد اسکیم کا آغاز کیا ہے۔

پروگرام ”عہد“ کو ابتدائی دنوں میں ملنے والی کامیابی کے الیکٹرک کی اس سوچ کو درست ثابت کرتی ہے کہ زیادہ تر صارفین بل کی ادائیگی کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن پیسے نہ ہونے کے باعث وہ اپنی یہ اہم ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
پروگرام ”عہد“ کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں، بلکہ شہر میں رہنے والے تمام صارفین اس پروگرام سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اپنے اجرا کے پہلے ہی ہفتے میں اس پروگرام کو صارفین کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، اور اب تک 8,000 سے زائد صارفین اس پروگرام کے تحت اپنے بلوں کی ٓآسان ادائیگی کے لیے رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔ ابتدائی دنوں میں ہی ہزاروں صارفین نے اس پروگرام سے فائدہ اٹھایا اور وصولیوں میں خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں آرہی ہے۔

اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے بجلی فراہم کرنے والے ادارے نے ملازمین کی حوصلہ افزائی کی اور گائیڈ لائن دیں، تاکہ وہ صارفین کے مسائل کو احسن طریقے سے حل کرسکیں۔ یہ حوصلہ کن اقدام کسٹمر کیئر سینٹر کے ایمپلائز میں زیادہ سے زیادہ صارفین کو اس پروگرام میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے حوالے سے بہت سودمند ثابت ہورہا ہے۔
ویسے تو کراچی کے تمام ہی علاقوں میں رہنے والے صارفین اس اسکیم سے فائدہ اُٹھانے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن اورنگی، بن قاسم، گلستان جوہر اور لانڈھی کے صارفین نے جس جوش اور جذبے سے اس اسکیم میں شمولیت اختیار کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔

”عہد“ اسکیم کے تحت نادہندہ افراد کو محدود مدت کیلئے 50 سے 70 فیصد تک بجلی کے بل میں معافی دینے کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ واجبات آسان اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دی جارہی ہے۔ پروگرام ”عہد“ کی انفرادیت یہ ہے کہ اس پروگرام کے سبب صارفین کی ایک بڑی تعداد باقاعدگی سے بل ادا کرنے کے قابل ہوجائے گی اور ان میں بل کی ادائیگی کے فوائد کے بارے میں شعور اُجاگر ہوگا۔

”عہد“ پروگرام اصل میں کے الیکٹرک کا کراچی کے عوام کو قابل بھروسہ اور تسلسل سے بجلی فراہمی کا عہد ہے۔ اب بجلی کے صارفین کو چوری اور کنڈے لگانے سے اجتناب کے ساتھ بجلی کا بل بروقت ادا کرنے کا ”عہد“ کرنا چاہیے، تاکہ پاور یوٹیلیٹی شہر کو لوڈشیڈنگ کے بغیر بجلی فراہم کرکے شہر کی معاشی اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

اس سے قبل کے ای اپنے پروگرام ”سربلندی“ کے ذریعے بھی صارفین کو سہولت فراہم کرچکا ہے۔ ”سربلندی“ پروگرام کے ذریعے نادہندہ افراد کے 50 سے 70 فیصد تک بجلی کے بل میں معاف کردیے گئے تھے، جبکہ باقی ماندہ واجبات بھی آسان اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دی گئی تھی، جس سے علاقہ مکینوں نے بھرپر فائدہ اٹھایا تھا۔ ”سربلندی“ پروگرام کے ذریعے کے الیکٹرک نے علاقہ مکینوں کے لیے رعایتی بنیادوں پر بجلی کی قانونی ترسیل کا بھی انتظام کیا۔ ان اقدامات کے سبب بجلی کے انفرا اسٹرکچر میں بہتری آئی اور اب غریب گھرانوں میں بجلی بھی آرہی ہے اور لوگ باقاعدگی سے بل بھی ادا کررہے ہیں۔ عہد پروگرام سربلندی کے مقابلے میں اس لئے منفرد ہے کیونکہ اس کے تحت علاقائی سطح کے علاوہ انفرادی سطح پر بھی پورے شہر کے صارفین اس پروگرام سے فائدا اٹھا کر اپنے لئے کے الیکٹرک سے محفوظ اور قابل بھروسہ بجلی کی تسلسل سے فراہمی کو یقینی بنا کر شہر کی معاشی اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

گزشتہ مالی سال میں کے الیکٹرک نے صرف لیاری کی ترقی کے لیے 85 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تھی جبکہ کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی اربوں روپوں کے پروگرام سمیت مستقبل میں لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ علاقے کے عمائدین اور منتخب نمائندوں کے تعاون اور کے الیکٹرک کی جانب سے مسلسل سرمایہ کاری کی بدولت 40 فیصد سے زائد لیاری لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہے، جس کا مثبت اثر ڈیڑھ لاکھ نفوس پر پڑرہا ہے۔ آگرہ تاج کالونی، نشتر روڈ، بولٹن مارکیٹ، کھوڑی گارڈن اور بہار کالونی وہ علاقے ہیں جہاں بلاتعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ کے الیکٹرک نے لیاری میں گزشتہ سال 46,000 سے زیادہ میٹرز نصب کیے ہیں، جس سے بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کا اندازہ ہوتا ہے۔ کھمبوں پر لگے ٹرانسفارمرز کے نیٹ ورک کے 60 فیصد سے زیادہ کو ایئریل بنڈل کیبلز (اے بی سی) پر منتقل کردیا گیا ہے، جو اس گنجان آباد علاقے میں بجلی کی محفوظ طریقے سے مسلسل فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں