The news is by your side.

تجاوزات کے خلاف آپریشن، کورنگی میں مکینوں‌ کی شدید مزاحمت، متعدد مظاہرین گرفتار

مشتعل مظاہرین کو پولیس اور رینجرز نے منتشر کر کے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا

کراچی: شہر قائد کے علاقے کورنگی مہران ٹاؤن میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا اور ایک دکان سمیت 5 موٹر سائیکلوں کو نذرآتش کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کورنگی میں واقع مہران ٹاؤن میںکراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کی ٹیم پولیس نفری کے ہمراہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کے لیے مہران ٹاؤن میں داخل ہوئی تو  مشتعل مظاہرین نے حملہ کردیا۔

مشتعل مظاہرین کی جانب سے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے،  بعد ازاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی تو جوابی فائرنگ بھی ہوئی۔

مظاہرین اور پولیس کے درمیان فائرنگ سے علاقہ گونج اٹھا جس کے بعد ٹیم کو کچھ دیر کے لیے تجاوزات کے خلاف آپریشن روکنا بھی پڑا البتہ رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری کو طلب کر کے  دوبارہ آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا رہائشی علاقوں میں قائم اسکولوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ

کے ڈی اے نے تجاوزات کے خلاف دوبارہ آپریشن کا آغاز کیا تو علاقہ مکین ایک بار پھر احتجاج کے لیے سڑک پر نکلے اور  مشتعل افرد نے ایک دکان سمیت متعدد گاڑیوں کا نذر آتش بھی کیا۔

بعد ازاں پولیس نے لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جس کے بعد رینجرز اور پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا۔ مہران ٹاؤن میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے پیٹرولنگ بھی کی۔

یاد رہے کہ شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے، پہلے مرحلے میں سپریم کورٹ کے حکم پر نالوں، فٹ پاتھوں اور دیگر سرکاری زمینوں پر قائم 9 ہزار سے زائد دکانوں کو مسمار کیا گیا۔

دوسرے مرحلے میں آپریشن گھروں کی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کیا جارہا ہے، جس کے تحت غیر قانونی عمارتوں اور نقشے کے بغیر بنائے جانے والے گھروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: انسداد تجاوزات آپریشن، متاثرین کو متبادل فراہم کیا جائے گا، میئر کراچی

خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 27 اکتوبر کو شہر بھر سے 15 روز میں غیر قانونی تجاوزات کو ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعد شہر بھر میں بڑے پیمانے پر انکروچمنٹ کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا، پہلے مرحلے میں صدر اور ایمپریس مارکیٹ کے اطراف میں موجود غیر قانونی طور پر قائم ہونے والی دکانوں کو مسمار کیا گیا تھا جس کے بعد لائٹ ہاؤس، آرام باغ، گلشن اقبال سمیت دیگر علاقوں میں تجاوزات کو ختم کیا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 17 نومبر کو صوبائی اور مقامی حکومت کو حکم جاری کیا تھا کہ ریلوے کی زمین کوفوری طور پر واگزار کرواتے ہوئے کراچی سرکلر ریلوے اور ٹرام کی سروس کا آغاز کیا جائے۔

اسے بھی پڑھیں: کراچی، تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، 63 بازاروں میں 9 ہزاردکانیں گرانے کی تیاری مکمل

اسی سے متعلق:  کراچی میں انسداد تجاوزات آپریشن کا تیسرا مرحلہ

ساتھ ہی 24 نومبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان کراچی رجسٹری میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے شہر میں جاری آپریشن کو بلاتعطل جاری رکھنے اور پارکس کی فوری بحالی کا حکم جاری کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں