The news is by your side.

Advertisement

’’پولیس کارروائی کا آسرا دیتی رہی، مروہ جان سے چلی گئی‘‘

کراچی: شہر قائد کے علاقے پی آئی بی کالونی میں بچی کی لاش ملنے کے واقعے پر ہونے والا احتجاج ختم کردیا گیا، پولیس اور رینجرز کی یقین دہانی کے بعد ورثا نے احتجاج ختم کیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق شہر قائد کے علاقے پی آئی بی کالونی میں مروہ کی ہلاکت کے بعد ورثا اور علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا، دونوں سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا، پولیس اور رینجرز کی یقین دہانی کے بعد ورثا نے احتجاج ختم کردیا، مظاہرین کا کہنا ہے کہ تین روز کا وقت دیا ہے، قاتل گرفتار نہیں ہوا تو پھر احتجاج کریں گے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بچی کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کروائی تھی پولیس آسرا دیتی رہی مروہ جان سے چلی گئی، اگر یہ لوگ ڈھونڈ لیتے تو ہماری بچی آج زندہ ہوتی۔

مزید پڑھیں: کراچی، کمسن بچی کی بوری بند لاش ملنے پر احتجاج، ’ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا‘

پولیس کا کہنا ہے کہ زیر حراست مشتبہ شخص کو طبی معائنے کے لیے بھیجا گیا ہے، مشتبہ شخص مقتولہ بچی کے گھر کے قریب ہی رہائش پذیر ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچی جمعہ کی صبح 7 بجے گھر سے بسکٹ لینے کے لیے نکلی تھی، بسکٹ خریدنے کے بعد وہ گھر نہ پہنچ سکی۔

ایس ایچ او پی آئی بی کا کہنا ہے کہ گھر سے کچھ فاصلے پر گراؤنڈ میں کچرا کنڈی سے بچی کی لاش برآمد کی، مروہ کی لاش سوختہ حالت میں برآمد ہوئی، تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے سے قبل کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

واضح رہے کہ پی آئی بی کالونی کی رہائشی 5 سالہ بچی دو روز قبل گھر سے بسکٹ لینے نکلی تھی، مروہ اغوا کرلیا گیا تھا جس کی لاش دو روز بعد کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی، بچی کی ہلاکت پر سوشل میڈیا پر ’جسٹس فار مروہ‘ کے نام سے ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جس میں قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں