The news is by your side.

Advertisement

کراچی، پی ٹی آئی ایم این اے عالمگیر خان اور فکس اٹ کے کارکنان کو رہا کردیا گیا

کراچی: فکس اٹ اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں جھگڑا ہوا جس کے بعد پولیس نے تحریک انصاف کے ایم این اے اور فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان کو  متعدد افراد سمیت حراست میں لے لیا گیا بعدازاں انہیں آرام باغ تھانے سے رہا کردیا گیا، تاہم فریئر تھانے کی پولیس نے انہیں دوبارہ گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا تھا، اب عالمگیر خان اور فکس اٹ کے کارکنوں کو رہا کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کلفٹن میں وزیر بلدیات سندھ کے کیمپ آفس کے سامنے پانی اور صفائی کے مسئلے پر احتجاج کے دوران فکس اٹ اور پیپلزپارٹی کے کارکنان کے درمیان جھگڑا ہوا،   تحریک انصاف کے ایم این اے اور فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان کلفٹن تین تلوار پر پریس کانفرنس پہنچے تو ان کو   متعدد کارکنان سمیت گرفتار کرلیا گیا تھا انہیں بعدازاں آرام باغ پولیس نے رہا کردیا تھا تاہم فریئر تھانے کے قریب احتجاج کررہے تھے کہ پولیس نے عالمگیر خان کو دوبارہ گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔

عالمگیر خان اور فکس اٹ کے کارکنوں کو رہا کردیا گیا ہے، واضح رہے کہ کچھ دیر پہلے اسد عمر فیریئر تھانے پہنچے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ ایس ایس پی نے کہا ہے کہ عالمگیر خان کو ضمانت پر رہا کیا جارہا ہے۔

عالمگیر خان سمیت 38 سے زائد افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے

ایس ایس پی ساؤتھ نے عالمگیر خان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں باضابطہ گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، انہیں کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

مقدمہ سرکار کی مدعیت میں فریئر تھانے میں درج کیا گیا، مقدمے میں عالمگیر خان سمیت 38 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے، ہنگامہ آرائی سمیت دیگر دفعات بھی شامل کرلی گئی۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ہنگامہ آرائی سے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

عالمگیر خان نے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ڈنڈا بردار لوگوں نے حملہ کیا، ہم مسئلے کے لیے آواز اٹھانے پہنچے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیوز میں پیپلزپارٹی کی ٹوپیاں پہنے لوگوں کو تشدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے، صحافیوں سے گفتگو کے لیے پہنچا تو پولیس موبائل میں ڈال کر تھانے لے گئی، ہمارے کارکنوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ارسلان گھمن کا کہنا ہے کہ آج کے واقعے کے ذمہ دار وزیر بلدیات سعید غنی ہیں، آج عوامی مسائل کے حل کے لیے احتجاج کیا جارہا تھا، پولیس  نے عالمگیر خان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔

ایس پی کلفٹن کا کہنا ہے کہ پولیس پہلے سے موجود تھی، فکس اٹ کے کارکنوں کو کشیدگی سے منع کیا تھا، دونوں اطراف کے کچھ کارکنان کو حراست میں لیا ہے۔

عالمگیر کو تھانہ آرام باغ سے رہا کردیا گیا

عالمگیر خان

ایس پی کلفٹن کے مطابق پولیس نہ ہوتی تو زیادہ تصادم ہوسکتا تھا، دونوں جماعتوں کو مظاہرہ ختم کرنے کہا، پیپلزپارٹی کے کارکنان وزیر بلدیات سندھ کے دفتر کے باہر سے منتشر کردیا گیا۔

ایس ایس پی شیراز نذیر نے کہا کہ فکس اٹ کے کارکنان احتجاج کرنے پہنچے تھے، پیپلزپارٹی والوں کے کارکنان بھی یہاں موجود تھے، تصادم میں دونوں جانب کے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین تلوار کے قریب تصادم میں 2 پولیس افسر بھی زخمی ہوئے ہیں، ڈی ایس پی اعظم خان اور سب انسپکٹرز خمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ادھر فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان کا کہنا ہے یہ سب کچھ سندھ حکومت کی مرضی سے ہورہا ہے، ہم نے احتجاج کا اعلان کیا تھا وہاں مسلح افراد کیوں موجود تھے۔

پی ٹی آئی ایم این اے عالمگیر خان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو احتجاج سے تکلیف ہورہی ہے، ہمارے ہی 20 سے 25 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں