کراچی : بلوچستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے کراچی کے تاجر علی جمیل کو سپردِ خاک کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے دشت میں دہشت گردوں کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے کراچی کے معروف تاجر علی جمیل کو آلو د الشکر اور سوگوار ماحول میں کراچی کے سوسائٹی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
نمازِ جنازہ میں لواحقین، دوستوں اور تاجر برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جہاں شرکاء نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری تحقیقات اور ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا پرزور مطالبہ کیا۔
افسوسناک واقعے میں کراچی کے تاجر علی جمیل اپنی اہلیہ اور دو معصوم بچیوں کے ہمراہ کار میں کراچی سے کوئٹہ جا رہے تھے کہ سفر کے دوران وہ راستے کی رہنمائی کے لیے ‘گوگل میپ’ کا استعمال کر رہے تھے کہ دشت کے علاقے کھنڈ میں وہ راستہ بھٹک گئے۔
اسی دوران وہاں گھات لگائے ظالم دہشت گردوں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی اور فائرنگ کے نتیجے میں علی جمیل موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ان کی اہلیہ گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گئیں، جو اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
گاڑی میں موجود دونوں معصوم بچیاں معجزانہ طور پر گولیوں کی زد میں آنے سے تو بچ گئیں، تاہم اپنے سامنے والد کو خون میں لت پت اور ماں کو تڑپتا دیکھ کر وہ سخت صدمے اور شدید خوف کا شکار ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان خوفزدہ معصوم بچیوں کی تصویر نے ہردل کو لرزا کر رکھ دیا ہے اور ہر دیکھنے والی آنکھ نم ہے۔
دوسری جانب وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے اس بزدلانہ واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ "معصوم بچوں کے سامنے ان کے والد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کرنا کہاں کی جرات اور بہادری ہے؟”
انہوں نے اعلیٰ حکام کو واقعے کی فوری انکوائری کرنے اور سفاک ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں فی الفور گرفتار کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔


