site
stats
پاکستان

اے ٹی سی میں ثبوت کے طورپرپیش کردہ دستی بم پھٹ گیا

کراچی:شہرقائد کے علاقے کلفٹن میں واقع انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دستی بم کا ڈیٹونیٹر پھٹنے سے تین افراد زخمی ہوگئے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ ڈاکٹر جمیل نے میڈیا کو بتایا کہ آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں گینگ وار کے ملزم کے کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل کے اصرار پر پولیس اہلکار نے کیس پراپرٹی کو کھولا تو اس میں موجود دستی بم کا ڈیٹو نیٹر پھٹ گیا۔

انہوں نے کہاکہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اس واقعے کی انکوائری کررہے ہیں اور آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچنے کیلئے عدالت میں کسی بھی کیس کی پراپرٹی پیش کرنے کے حوالے سے مروجہ طریقہ کار پر نظر ثانی کریں گے۔

ملزم کے وکیل عبدالجبار لاکھونے کہا کہ سماعت کے دوران کیس پراپرٹی پیش کرتے ہوئیے پولیس اہلکار نے ڈیٹو نیٹر کی پن نکالنے کی کوشش کی تو جج نے پوچھا بھی کہ کہیں یہ پھٹے گا تو نہیں؟ لیکن پولیس اہلکار کا اصرار تھا کہ وہ کئی کیس پراپرٹی عدالتوں میں پیش کرچکا ہے اور وہ تجربے کی روشنی میں کہہ رہا ہے کہ کچھ نہیں ہوگا یہ کہتے ہوئے پولیس اہلکار نے پن کھینچ دی جس کے بعد دھماکہ ہوگیا، وکیل عبدالجبار لاکھو نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں اس واقعے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کی غفلت ہے جس نے ڈیٹو نیٹر کو ناکارہ بنائے بغیر کیس پراپرٹی کا حصہ بنادیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق واقعے میں پولیس اہلکار اور کورٹ ملازم سمیت تین افراد زخمی ہوئے ، جنہیں طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی نے انسداد دہشتگردی عدالت میں دستی بم پھٹنے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی کے مطابق اسٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجرز کو کیوں فالو نہیں کیا گیا، واقعے میں غفلت برتنے والے افراد کیخلاف کارروائی کی جائے گی،

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top