کراچی(18 فروری 2026): سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے اہم سرکاری و نجی اداروں کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔
جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں ریسکیو 1122، کے ایم سی فائر بریگیڈ، ایدھی، چھیپا اور گل پلازہ یونین کے عہدیداروں نے بیانات ریکارڈ کروائے، جس میں شہر کے فائر سیفٹی نظام کی سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔
چیف فائر افسر کے ایم سی ہمایوں خان نے کمیشن کو بتایا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ درجہ حرارت 1200 ڈگری تک پہنچ گیا تھا اور پانی فوراً بھاپ بن رہا تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ شہر میں انگریز دور کے فائر ہائیڈرنٹس اب موجود ہی نہیں ہیں، جس کی وجہ سے پانی کے لیے صرف ٹینکرز پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ڈی جی ریسکیو 1122 نے بتایا کہ عمارتوں میں فائر سیفٹی چیک کرنا ایس بی سی اے اور سول ڈیفنس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تمام ریسکیو اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے قانونی کام جاری ہے۔
گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگتے ہی 7 سے 8 منٹ میں بجلی بند کروا دی گئی تھی تاکہ شارٹ سرکٹ سے مزید نقصان نہ ہو۔ انہوں نے ریسکیو اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں اور پانی جلد ختم ہو گیا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ اگر بروقت کارروائی ہوتی تو جانی نقصان کم ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت میں آگ بجھانے کے 100 سے زائد سلنڈر موجود تھے، لیکن آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ قابو پانا مشکل ہو گیا۔
کمیشن نے سوال اٹھایا کہ کیا پانی کی ترسیل کا ذریعہ صرف ٹینکرز ہیں؟ ہائیڈرنٹس کیوں فعال نہیں؟ چیف فائر افسر سے ان کی تعلیم اور عملے کی تربیت کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے۔
کمیشن نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ جائے وقوعہ پر آپریشن کو لیڈ کرنے والی کوئی مشترکہ کمانڈ موجود نہیں تھی، کمیشن نے استفسار کیا کہ آگ لگنے کے بعد عمارت میں اعلان کیوں نہیں کروائے گئے اور ہنگامی لائٹس کا انتظام کیوں نہیں تھا۔
تحقیقاتی کمیشن نے گل پلازہ کے صدر تنویر پاستا کو کل دوبارہ طلب کر لیا ہے، جبکہ دیگر اہم سرکاری اداروں کے افسران کے بیانات بھی کل ریکارڈ کیے جائیں گے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ جس ادارے کی غفلت ثابت ہوئی اس کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


