site
stats
پاکستان

کراچی: ایف بی آر کے دو گارڈز قتل، ایک خاکروب نکلا

کراچی: گلستان جوہر میں فائرنگ سے ایف بی آر کے دو سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوگئے، مقتولوں کو پولیس اہلکار سمجھ کر مارا گیا، انتظامیہ نے ایک خاکروب کو گارڈ کی وردی پہنا کر تعینات کردیا تھا، حالیہ واردات اور سابقہ وارداتوں میں ایک ہی گروہ کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گلستان جوہر میں ایف بی آر کے دفتر پر تعینات گارڈز پر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے، نتیجے میں دو سیکیورٹی گارڈز جاں بحق ہوگئے۔

ایس ایس پی ایسٹ نے بتایا کہ دونوں ملزمان نے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے، جائے وقوع سے نائن ایم ایم پسٹل اور تیس بور کے 9 خول ملے ہیں، گارڈ کے یونیفارم پولیس اہل کاروں کے یونیفارم سے مماثلت رکھتے تھے شبہ ہے کہ انہیں پولیس اہلکار سمجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

انتظامیہ نے ایک خاکروب کو گارڈ بنا کر تعینات کیا ہوا تھا

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ایف بی آر انتظامیہ نے خاکروب کو سیکیورٹی گارڈ کی وردی پہنا کر تعینات کیا ہوا تھا۔
ایف بی آر کے سیکیورٹی انچارج نے بتایا کہ افسران کے حکم پر خاکروب کو وردی پہنا کر تعینات کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سابقہ کئی وارداتوں اور اس واقعے میں کالعدم تنظیم کا ایک ہی گروہ ملوث ہے۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے نذیر شاہ نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے ملنے والے خول سابقہ کئی وارداتوں میں استعمال ہونے والے نائن ایم ایم پسٹل کے خول سے میچ ہوگئے ہیں یعنی یہ تمام وارداتیں ایک ہی گروہ کے ہتھیاروں سے ہوئیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ان ہی ہتھیاروں سے بہادر آباد میں دو پولیس اہلکاروں، سائٹ ایریا میں چار پولیس اہل کاروں کو قتل کیا گیا جبکہ گلستان جوہر میں پولیس فاؤنڈیشن کے ایک گارڈ کو بھی اسی اسلحے سے قتل کیا گیا تھا۔

نائن ایم ایم اور 30 بور کے ان کئی خول کے فارنزک سے پتا چلا ہے کہ اس سے قبل بھی گلستان جوہر میں ایک واردات میں یہی اسلحہ استعمال ہوا تھا، تمام وارداتوں میں کالعدم جماعتوں کا ایک ہی گروہ ملوث ہوسکتا ہے جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

نمائندے کے مطابق ان ملزمان نے سیکیورٹی گارڈز پر پولیس اہلکار سمجھ کر حملہ کیا جیسا کہ جوہر میں پولیس فاؤنڈیشن کا اہل کار مارا گیا تھا۔

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق کچھ ایسی ٹیلی فون کالز پکڑی گئی ہیں جو کہ افغانستان سے کی گئیں، انہیں ٹریس کرکے اور فارنزک تجزیے سے لگتا ہے کہ مفتی شاکر گروپ اور انصار الشرعیہ کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہے، مفتی شاکر گروپ تو ختم کردیا گیا ہے لیکن انصار الشرعیہ گروہ تاحال فعال ہے۔

ان کے لیے تحقیقات جاری ہے، ایک گروہ ایسا ہے جس نے رواں برس 25 سے زائد پولیس اہلکاروں کو شہید کیا ہے لیکن تاحال اس کا کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top