کراچی: اورنگی ٹاؤن میں شوہر کے قتل کیس میں لیڈی پولیس اہلکار دعا نے اپنے جرم اور تنازع کا اعتراف کر لیا۔
اورنگی ٹاؤن میں نوجوان حمزہ کے مبینہ قتل کے کیس میں گرفتار لیڈی پولیس اہلکار "دعا” کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد پولیس نے خاتون کا ساتھ دینے والے اس کے سابق شوہر اور دوسرے ملزم فہد کی گرفتاری کے لیے لیاقت آباد میں چھاپہ مارا ، تاہم ملزم فلیٹ کو تالا لگا کر غائب ہو گیا ہے۔
تفتیشی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کرائم سین سے یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ مقتول حمزہ نے خودکشی نہیں کی، بلکہ اسے بے دردی سے قتل کر کے خودکشی کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔
تفتیش کے مطابق چند روز قبل ملزم فہد کا حمزہ کے گھر کے باہر جھگڑا بھی ہوا تھا جہاں اس نے حمزہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار لیڈی پولیس اہلکار دعا جس کی چند سال پہلے ہی محکمہ پولیس میں بھرتی ہوئی تھی، اس نے دورانِ تفتیش اپنے جرم اور خاندانی تنازع کا اعتراف کر لیا ہے۔
پولیس تحقیقات کے مطابق ملزمہ دعا نے پہلے فہد سے شادی کی تھی جس سے اس کے 3 بچے ہیں، ماضی میں مقتول حمزہ اور فہد آپس میں گہرے دوست تھے اور حمزہ کا فہد کے گھر آنا جانا رہتا تھا، فہد سے جھگڑا ہونے کے بعد دعا نے حمزہ سے شادی کر لی۔ تاہم، دوسری شادی کے بعد ملزمہ کے حمزہ کے ساتھ بھی شدید جھگڑے شروع ہو گئے۔
حمزہ سے تعلقات خراب ہونے پر ملزمہ نے دوبارہ اپنے سابق شوہر فہد سے رابطے بڑھائے اور اپنے موجودہ شوہر حمزہ کو راستے سے ہٹانے کے لیے فہد کے ساتھ مل کر قتل کی لرزہ خیز سازش تیار کی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ دعا اس وقت حراست میں ہے جبکہ مفرور ملزم فہد کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور شہر کے مختلف حصوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ اسے جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے


